’ارکان پارلیمان پر مقدمات تکلیف دہ بات‘

بھارت کی سپریم کورٹ

بھارت کی سپریم کورٹ نے اس بات کو ’انتہائی تکلیف دہ ‘ قرار دیا ہے کہ ملک کے 162 ارکان پارلیما ن کو مختلف جرائم کے الزامات میں مقدمات کا سامنا ہے ۔

عدالت عظمی نے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کونوٹس دیا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ کیوں نہ ان ارکان کے خلاف مقدمات کی سماعت تیز رفتار عدالتوں میں شروع کی جائے ۔

عدالت عظمیٰ کی ایک بنچ نے مرکزی ا ور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جارے کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

عدالت عظمیٰ نے یہ نوٹس ملک کے سابق چیف الکشن کمشنر جے ایم لینگڈ و کی طوف سے داخل کی گئی مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد جاری کی ہے ۔ ‏مسٹر لینگڈو نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ارکان پارلیمان کے خلاف مجرمانہ معاملات کی سماعت تیز رفتار عدالتوں میں کی جائے۔

مسٹر لینگڈو کی نمائندگی کرتے ہوئے سرکردہ وکیل راحیو دھون نے عدالت میں دلیل دیتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 162 ارکان پارلیمان پر مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور ان میں سے 76 ارکان پر سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات ہیں ۔

انہوں نے کہا اس مقدمات میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے اس لیے ان کے جلد فیصلے کے لیے ان تمام معاملات کو فاسٹ ٹریک یعنی تیز رفتار عدالتوں میں منتقل کر دیا جائے ۔

بھارت کے عوامی نمائندگی قانون کے تحت اگر کوئی شخص عدالت کے ذریعے کسی قابل سزا جرم کا قصور وار پایا جاتا ہے تو وہ انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔