’میری کالونی میں تو کسی نے ووٹ نہیں ڈالا‘

جمعرات سات مئی کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولنگ ہوئی۔ سرینگر سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قاری عمر بھٹ نے انتخابات کے حوالے سے اپنے تاثرات ہمیں بھیجے ہیں:

عمر بھٹ، چھاناپورا، سرینگر

عمر بھٹ
،تصویر کا کیپشنعمر بھٹ، سرینگر

پولنگ کی شرح میرے اندازے سے کم رہی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگ یہ سمجھ چکے ہیں کہ ووٹ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں لوگوں کی یاداشت بہت کمزور ہے اور لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ووٹ دے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں پولنگ کی شرح بہتر رہی ورنہ لوگوں کے پاس ووٹ ڈالنے کی اور کوئی وجہ نہیں تھی۔

میرے علاقے میں ایسا نہیں ہے اور لوگ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ووٹ نہیں ڈالتے۔ میرا انتخابات کا پہلا تجربہ سرینگر میں حباہ کدل کے علاقے کا ہے جو کہ میری جائے پیدائش بھی ہے۔ میں نے آج تک نہیں سنا کہ وہاں پولنگ کی شرح ایک فیصد سے کبھی زیادہ بڑھی ہو اور اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی۔

اب میں سرینگر کے علاقے چھاناپورا میں مقیم ہوں اور یہاں بھی کہانی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ چھاناپورا پولنگ کی شرح میں حباہ کدل کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حباہ کدل کے بعد اس کا ہی نمبر آتا ہے۔ مقامی لوگوں میں سے بیشتر نے ووٹ نہیں ڈالا اور کم از کم میری کالونی میں سے تو کسی نے ووٹ نہیں ڈالا۔ سرینگر میں عام آدمی کبھی بھی ووٹ نہیں ڈالتا بلکہ سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹ اپنے مفادات کے حصول کی خاطر سیاسی لیڈروں کی حمایت کرتے اور انہیں ووٹ دیتے ہیں۔

میں نے ہمیشہ سے دیکھا ہے کہ انتخابات کے دنوں میں لوگ خود کو اپنے علاقوں میں محدود کر لیتے ہیں۔ پہلے بڑے بوڑھے مل بیٹھ کر اپنے تجربات ایک دوسرے کو بتاتے تھے، جوان لوگ کیرم، شطرنج اور کرکٹ کھیلنے میں مصروف رہتے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب لوگ ٹی وی خاص کر خبریں دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

میری عمر بیس برس ہے اور یہ پہلا موقع تھا کہ میں پولنگ میں ووٹ دے سکتا تھا، مجھے ایسا کرنا بھی چاہیے تھا جو کہ میں نے نہیں کیا۔ میرے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجوہات ہیں اور اسی طری دوسرے لوگوں کی بھی۔

ہم انڈیا کے آئین پر یقین نہیں رکھتے اور اس کی مکمل طور پر مخالفت کرتے ہیں۔ انڈیا جموں و کشمیر پر قابض ہے اور اگر کسی کے علاقے پر قبضہ ہو جائے تو اس کا قدرتی ردعمل مزاحمت ہوتا ہے۔ اگر ہم بھارتی آئین کو تسلیم کر لیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان ہمارے عزم کو پہنچے گا۔ یہاں الیکشن منعقد کروا کر انڈیا دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر اس کا قانونی اور اہم حصہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہ بات اقوام متحدہ کی قرارادادوں سے ثابت ہوتی ہے۔ ہنگامے، ہزاروں لوگوں کی گمشدگی اور ہلاکتیں آنکھیں کھول دینے والے واقعات ہیں۔

چند شدت پسندوں کے لیے سات لاکھ بھارتی فوج اور اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پولیس، خفیہ اداروں کے اہلکار اور دوسرے گروپوں کی موجودگی یہ پتہ دیتی ہے کہ یہ لوگ یہاں پر صرف شدت پسندوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ مقامی آبادی کے خلاف بھی لڑنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ ’آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ‘ کسی بھی فوجی کو اس بات کا لائسنسں دیتا ہے کہ وہ جسے چاہے گولی مار سکتا ہے۔

کشمیر وہ علاقہ ہے جہاں ہر انتخابات کے بعد کسی قراراداد پر عمل نہیں ہوتا ہے۔ انڈیا 1947 سے یہاں حکومتیں قائم کر رہا ہے لیکن کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بنیادی مسائل جن کے لیے لوگ انتخابت میں ووٹ ڈالتے ہیں وہ بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں کے نمایاں سیاسی لیڈر ہر سال اپنے وعدے دہراتے ہیں اور لوگوں سے قرارادادوں، سڑکوں، بجلی کے مسائل حل کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی نیک نیتی سے کوئی کام نہیں کرتا۔ یہی لوگ اخلاقی برائیوں، یہاں شراب کی فروخت کی اجازت دینے اور ایک قوم کی حیثیت سے ہماری شناخت کو نقصان پہنچانے اور ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ یہ انڈیا کے لیے کام کر رہے ہیں۔

’لوگو کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں‘
،تصویر کا کیپشن’لوگو کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں‘

لوگوں میں علیحدگی پسند لیڈروں کے بارے میں بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں سجاد غنی لون نے کہا تھا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے اور پارلیمنٹ میں جا کر کشیمر کا مسئلہ اجاگر کریں گے اور قراراداد منظور کروائیں گے۔ لیکن میں یہاں ایک بات صاف صاف کہنا چاہوں گا کہ اقوام متحدہ کی کشمیریوں کے لیے حق خود ارادیت کی قرارداد وہ الفاظ ہیں جو میں بچپن سے سنتا آ رہا ہوں۔ میں اور اس وادی کے لوگ ان الفاظ کو سن سن کر تنگ آ چکے ہیں۔ میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ مسٹر لون کے دعوؤں میں ایمانداری نہیں ہے۔ آپ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن کر کمیونسٹ نظریات کو فروغ نہیں دے سکتے۔ اس طرح آپ انڈیا کے آئین کو تسلیم کر کے انڈیا کی مخالفت نہیں کر سکتے۔

موجودہ حالات میں لوگوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ اپنی نمائندگی کے لیے کس کو منتخب کریں کیوں کہ سچے اور ایماندار لیڈروں کا فقدان ہے۔ لوگ کئی دہائیوں سے ہاں اور نہ کی کشمکش میں ہیں۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس روڈ میپ پر عمل کریں جس وجہ سے کشمیریوں کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور ریاست جموں و کشمیر کا مستقبل متنازعہ ہے۔