لائیو, جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار، ڈرون حملے کے بعد دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔ جاپانی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
خلاصہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی 'پولیسنگ' کے لیے 'تقریباً سات' ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
'ڈرون سے متعلقہ واقعے' کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے پاسدارانِ انقلات کو 'حساس معلومات' فراہم کرنے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے
پاسداران انقلاب کی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ’ڈھونڈ کر قتل کرنے‘ کی دھمکی
عراق میں فوجی طیارہ گرنے سے ہلاک چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت
لائیو کوریج
سعودی وزارتِ دفاع کا 60 سے زائد ڈرونز روکنے کا دعویٰ
سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر 60 سے زائد ڈرونز کو روکا ہے۔
ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں سعودی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان تمام ڈرونز کو ملک کے مشرق میں روکا گیا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ ڈرون کے فیول ٹینک سے ٹکرانے کے بعد کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایران نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر دو ہزار کے قریب میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے روکا ہے۔
جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا اور جاپان نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ ’ہم آبنائے ہرمز میں جہاز نہیں بھیجیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے، لیکن یہ وہ چیز نہیں ہے جس کے لیے ہم سے کہا گیا ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘
جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجیں۔
لائن آف کنٹرول: انڈین فوج کا اُوڑی سیکٹر میں ’پاکستانی‘ درانداز کی ہلاکت کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے اُوڑی قصبے میں فوج نے مسلح درانداز کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم انڈین آرمی کی 15 ویں پندرہویں کور نےایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بارہمولہ ضلع کے سرحدی قصبہ اُوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب بوچھار علاقے میں ’آپریشن ڈِگی‘ کے تحت مسلح دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی۔
فوجی ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے کشمیر پولیس کی طرف سے ممکنہ دراندازی سے متعلق ملی خفیہ اطلاعات کے بعد اس سرحدی پٹی میں’آپریشن ڈِگی‘ شروع کیا گیا جس کے دوران گذشتہ شب بوچھار کے پاس ایل او سی کے اُس پار سے آ رہے ایک مسلح ’درنداز‘ کی حرکت کو مانیٹر کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق فورسز نے اسے روکا تو اس نے فائرنگ کر دی اور جوابی کارروائی یہ ’پاکستانی درانداز‘ مارا گیا۔
فوج کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے۔
کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کا اُوڑی سیکٹر کئی دہائیوں سے اس سرحد کا حساس ترین سیکٹر رہا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی کنٹرول والے علاقوں سے انڈین علاقے میں دراندازی کے لیے مسلح عسکریت پسند اکثر اوقات اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔
گذشتہ برس 22 اپریل کو سیاحتی مقام پہلگام میں 24 انڈین سیاحوں کی مسلح حملے میں ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف آپریشن سندُور شروع کیا تو پاکستانی ردِعمل کے نتیجہ میں دونوں مملکوں کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی۔
اس کشیدگی کے بعد سرحدی علاقوں میں گشت مزید بڑھا دیا گیا تھا۔ دراندازی کے تازہ واقعہ سمیت اس سال فروری سے ابھی تک ایسے چار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے تین راجوری اور پونچھ اضلاع کے سیکٹروں میں ہوئے۔
خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency
متعدد ذرائع نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای کو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔
ذرائع نے سی بی ایس کو یہ بھی بتایا کہ خامنہ ای جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کی ’ذاتی زندگی میں مسائل‘ ہیں۔
سی بی ایس نے اطلاع دی ہے کہ یہ معلومات پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کو پہنچا دی گئی تھیں۔
56 سالہ آیت اللہ مجبتی خامنہ ای کو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔
ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے بعد دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی: انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر, سمیر ہاشمی، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈیا کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی وجہ سے انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد ملی ہے۔
فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں جے شنکر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اور تہران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں سنیچر کو دو انڈین پرچم بردار گیس ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا گھروں میں استعمال ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس کا لگ بھگ 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ان میں 90 فیصد سپلائی خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب اور محتدہ عرب امارات سے آتی ہے۔ اس ایندھن کی زیادہ ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
30 کروڑ سے زائد انڈین گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کئی انڈین شہروں میں گیس ڈیلروں کے باہر لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ ریستوران بھی قلت کی وجہ سے عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں۔
’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دبئی میں حکام نے ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد لگنے والی آگ پر ردعمل دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک فیول ٹینک متاثر ہوا ہے۔
مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔
دبئی ایئر پورٹ کا شمار دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2025 میں اس کے ذریعے نو کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی کا سولہواں روز: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, فرییا سکاٹ ٹرنر، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی 16 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے اس جنگ کے مستقبل کے حوالے سے متضاد بیانات کے بعد اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کا امکان بہت دُور دکھائی دے رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی صدر کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔ امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’تہران نے کبھی بھی جنگ بندی کے لیے نہیں کہا اور نہ ہی ہم نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔‘
ایران میں شہریوں نے بی بی سی سے گفتگو میں اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ ’اگر لڑائی جاری رہی تو ان کا ملک برباد ہو جائے گا۔‘ اسرائیل کی جانب سے ’مزید وسیع پیمانے‘ پر حملوں کے بعد دارالحکومت تہران میں ملبے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے دوران مواصلائی رابطوں کی لائن بھی منہدم ہو گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں بھی ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے اُن کا چین سمیت سات ممالک سے رابطہ ہوا۔
اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ تنازع کے بعد سے لے کر اب تک ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ کلسٹر بموں نے تل ابیب کے کچھ حصوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنے حملوں کا دائرہ کار مزید بڑھا رہی ہے اور اس کے پاس اب بھی ’ہزاروں اہداف‘ ہیں۔
لبنان میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 850 ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملوں کے بعد دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی مذاکرات کے کسی بھی امکان کو مسترد کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے مطابق وہ اس جنگ کے حوالے سے پیر کو کینیڈا کے وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جاری کردہ تیل کے ہنگامی ذخائر ایشیا اور اوشیانا میں فوری طور پر دستیاب ہوں گے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت سے متعلق انفرادی سطح پر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
امریکہ کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے چین سمیت ’سات ممالک‘ سے رابطہ، ’ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر اُنھوں نے مدد نہ کی تو ہم یاد رکھیں گے‘، صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’پولیسنگ‘ کے لیے ’تقریباً سات‘ ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔
اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چین سے پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کے علاوہ اُن کی کس ملک سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ نیٹو اور دوسرے ممالک جو اس علاقے کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات حاصل کرتے ہیں اُنھیں بھی ’اپنی اپنی سرزمین‘ کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ممالک کے پاس بارودی سرنگیں رکھنے اور ایک خاص قسم کی کشتی ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کو بھی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔
اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ 'جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔'
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا تھا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران بے چینی کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، سفارتی بات چیت کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں؟ تو اس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اُنھیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اگر ہم نے انھیں ابھی چھوڑ دیا تو انھیں تعمیر نو کے لیے 10 سال لگیں گے۔‘
گوادر کے علاقے جیونی میں مسلح افراد کے حملے میں کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار ہلاک، ایک زخمی
،تصویر کا ذریعہAFP
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے ایک واقعے میں کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
سرکاری حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کے علاقے پانواں میں پیش آیا۔
رابطہ کرنے پر ایس ایس پی گوادر عطاالرحمان ترین نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے پانوان میں کوسٹ گارڈز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے میں کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت نائیک سلیم اور سپاہی عدنان جبکہ زخمی اہلکار کی شناخت سپاہی عظیم کے نام سے ہوئی۔
زخمی اہلکار کو طبی امدادی کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جیونی بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل ہے ۔ یہ علاقہ ایرانی سرحد سے گوادر شہر کی جانب پچیس سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ادھر گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت شہر میں اتوار کی شب دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں ۔ تربت پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔
حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر لبنان سے بات چیت ممکن نہیں: اسرائیلی مشیر
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خارجہ پالیسی کے مشیر نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، بات چیت ممکن نہیں۔
بی بی سی نیوز میں گفتگو میں ڈاکٹر اوفیر فالک نے کہا کہ ’بات چیت اچھی چیز ہے، لیکن عمل کہیں زیادہ اہم ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ نومبر 2024 میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق ’لبنانی حکومت کو حزب اللہ کو ختم کرنا ہوگا۔‘
ڈاکٹر فالک نے کہا کہ ’انھیں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا چاہیے اور یہ کام فوراً ہونا چاہیے۔ اگر ارادہ ہو تو راستہ نکل ہی آتا ہے۔‘
ایران میں بمباری کے لیے ابھی بھی ’ہزاروں اہداف‘ موجود ہیں: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں بمباری کے لیے اس کے پاس ابھی ’ہزاروں اہداف‘ موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف اسرائیلی امریکی حملوں کا تیسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمارے پاس ایک درست اور پہلے سے تیار منصوبہ ہے اور اس کے تحت ہمارے پاس ایران میں اب بھی ہزاروں اہداف ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر روز دوسرے اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں حکومت کمزور ہو چکی ہے، اور ہم اسے مزید کمزور کریں گے۔‘
بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس پر راکٹ حملے میں پانچ افراد زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بی بی سی عربی نے خبر دی ہے کہ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس پر راکٹ حملے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اتوار کوعراقی حکام کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے کمپلیکس پر حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔
حکومت کے سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ سعد مان نے ایک بیان میں کہا کہ ’شام کے وقت بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں پانچ راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک انجینئر کے علاوہ ایئرپورٹ کے چار ملازمین اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔‘
امریکہ کی ایران کے خلاف انتہائی مضبوط پوزیشن ہے: مائیک والٹز
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ میں صدر ٹرمپ کے ایلچی مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ’اتنی مضبوط پوزیشن میں کبھی نہیں رہا۔‘
فاکس نیوز سے گفتگو میں مائیک والٹز نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا امکان ’امریکہ اور دنیا کے لیے ناقابلِ قبول خطرہ‘ ہے۔
انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’دیکھیں وہ(ایران) عالمی توانائی سپلائی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ایران کے رویے کو دیکھا ہے، وہ ہر طرف حملے کر رہا ہے۔ سوچیں کہ اگر وہ یہ سب اپنے جوہری تحفظ کے تحت کر رہا ہوتا تو کیا صورتحال ہوتی۔‘
دوسری جانب سی این این سے الگ گفتگو میں والٹز نے روس کی جانب سے ایران کو جنگی کوششوں میں مدد کے لیے انٹیلیجنس فراہم کرنے کے دعووں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ اگر ایسا ہے تو ’یہ یقیناً مؤثر ثابت نہیں ہوا۔‘
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کو سولہواں روز
،تصویر کا ذریعہNetblocks
ایران میں انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش کو سولہواں روز ہے۔
انٹرنیٹ تک رسائی کی نگرانی کر نے والے ادارے نیٹ بلاکس کی طرف سے ایک اپ ڈیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران میں 16 دنوں سے عملی طور پر کوئی انٹرنیٹ کنکشن موجود نہیں ہے۔
انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے رپورٹنگ کے لیے ایران تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے اندر کچھ لوگ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے سٹار لنک کا استعمال کرتے ہیں۔
کویت میں امریکی -اٹلی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ
اٹلی کی فوج نے اپنے بیان میں کویت میں واقع ایک امریکی-اطالوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے ۔
اطالوی چیف آف ڈیفنس جنرل لوسیانو نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج صبح علی السالم بیس کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں اطالوی ٹاسک فورس ایئر(ٹی ایف اے) کا وہاں موجود ریموٹ کنٹرول طیارہ تباہ ہو گیا ہے۔‘
جنرل لوسیانو نے مزید کہا کہ تمام اہلکار محفوظ ہیں اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں علاقے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ٹی ایف اے کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کی خلیجی ممالک پر حملے سے متعلق ایرانی الزامات کی تردید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے ایران کے ان دعوؤں کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ خلیجی ممالک پر ڈرون حملوں میں ملوث ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آج ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل خلیجی ممالک پر حملوں کے ییچھے ہو سکتے ہیں اور الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی لوکس ڈرون ایرانی شاہد ڈرون سے ’مماثلت‘ رکھتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ڈرون عرب ممالک کے خلاف استعمال کیا جا رہے ہیں تاکہ ’ان ممالک کے ایران سے تعلقات سبوتاژ کیے جا سکیں۔‘
لوکس، کم لاگت سے تیار کیے گئے ڈرونز، کو پہلی مرتبہ ایران کے خلاف جنگ میں استعمال کیا گیا ہے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے شَاہِد ڈرون سے ’بہتر‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے دعوؤں پر ردِعمل دیتے ہوئے سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے پڑوسیوں پر ’سینکٹروں کی تعداد میں ڈرونز اور میزائل فائر‘ کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید لکھا کہ: ’امریکی ڈرون صرف ایران میں عسکری مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں اور خطے میں موجود خطرات کو ختم کر رہے ہیں۔‘
امریکہ اب تک ایران کے خلاف جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے: امریکی صدر کے مشیر
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کیون ہیسٹ سے پوچھا گیا کہ اب تک ایران کے خلاف جنگ پر کتنی رقم خرچ ہو چکی ہے اور کیا پینٹاگون کو مزید رقم حاصل کرنے کے لیے کانگرس کے پاس جانا پڑے گا؟
انھوں نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ: ’اس وقت ہمارے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے‘ اور یہ کہ امریکہ اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
کیون کا کہنا تھا کہ اس وقت تیل کی قیمتیں ’بڑا مسئلہ‘ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران’دہشتگرد طاقت‘ کی طرح برتاؤ کرنا بند کر دے تو ’تیل کی پروڈکشن میں بڑا اضافہ‘ ہو سکتا ہے۔
’ہمیں امید ہے کہ جیسے ہی یہ (جنگ) ختم ہو گی تو بین الاقوامی معیشت کو ترقی ملی گی۔‘
جنگ کے دورانیے کے بارے میں ہیسٹ کہتے ہیں: ’ہمیں اب بھی یہی بریفنگ دی جا رہی ہے کہ آغاز کے بعد سے چار سے چھ ہفتے لگیں گے اور ہم شیڈول سے آگے ہیں۔‘
ایرانی شہری انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے بہت زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس جنگ کی ابتدا کے وقت ہی ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ کو بند کرنا شروع کر دیا تھا، جس کے بعد ملک کی بہت بڑی آبادی پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے والے کچھ شہری سٹار لنک کی ڈیوائسز کا استعمال کر رہے ہیں اور دیگر افراد کے ساتھ بھی اپنا کنیکشن شیئر کر رہے ہیں۔
تہران کی ایک نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ: ’میری ان دنوں شادی ہونی تھی۔ اب فلائٹیں منسوخ ہو گئی ہیں اور صورتحال بالکل غیر واضح ہے۔ میرے پارٹنر کینیڈا میں رہتے ہیں جنھوں نے تہران کا ٹکٹ کروایا تھا تاکہ ہماری شادی ہو سکے۔‘
’میں صرف انٹرنیٹ پر ان سے رابطے میں رہنے کے لیے اب ایک خطیر رقم خرچ کر رہی ہوں۔‘
ایران میں ٹیلی گرام پر انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً چھ ڈالر فی جی بی میں فروخت کی جا رہی ہے، یہ ایک ایسے ملک میں خطیر رقم ہے جہاں لوگوں کی تنخواہ اوسطاً 200 سے 300 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔
میں نے تہران میں موجود خاتون سے پوچھا کہ اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو وہ کیا کریں گی تو انھوں نے کہا کہ ’اگر جنگ ختم نہیں ہوتی تو میں ترکی کی سرحد کے ذریعے استنبول جاؤں گی، میرے پارٹنر بھی وہاں آ سکتے ہیں۔‘
تلِ ابیب میں ایرانی میزائل حملوں کے دوران بی بی سی نے کیا دیکھا؟, جون ڈونیسن، تل ابیب
ہم تل ابیب کے مضافات میں ہیں، جب ہم شہر کے اندر داخل ہو رہے تھے اسی وقت یہاں سائرن بج اٹھے۔
ہم اپنے سامنے دیکھ سکتے ہیں کچھ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، کچھ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے اور یہاں لوگ افراتفری کا شکار نظر آتے ہیں۔
بہت سے لوگ اس جانب دوڑتے ہوئے آ رہے ہیں جہاں ابھی ابھی میزائل حملے سے نقصان ہوا ہے، غالباً یہ جاننے کے لیے کہ کہیں اُن کا کوئی جاننے والا تو زخمی نہیں ہوا۔ یہ ایک گنجان آباد رہائشی علاقہ ہے۔
ایسے متعدد ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے لیکن کچھ یہاں زمین پر گِرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔
کچھ ایرانی میزائل آسمان پر ہی پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے چھوٹے چھوٹے کلسٹر بم نکلتے ہیں۔ ان سے زیادہ نقصان تو نہیں ہوتا لیکن یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں، بحالی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں، جو آج صبح بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کر رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ چاہتے ہیں ایران ان سے ’بات کرنے کو تیار‘ ہے۔ خیال رہے آبنائے ہرمز میں اس وقت سمندری ٹریفک ایرانی حملوں کے سبب بالکل رُک چکا ہے۔
کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ’کئی ممالک آئے ہیں‘ جو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ چاہتے ہیں۔
ایران کے جوہری مراکز ملبے تلے دبے ہیں اور ’فی الحال ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی ان کی دوبارہ بحالی کا کوئی منصوبہ ہے۔‘
ایرانی وزیرِ خارجہ مزید کہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر بات چیت جاری تھی، تو ایران نے پیشکش کی تھی کہ ’افزودہ مواد کی شرح کو کم کر دیا جائے گا۔‘
وہ کہتے ہیں: ’یہ ایک بہت بڑی رعایت تھی۔ تنازع نے صورتِ حال بدل دی ہے: اب میز پر کچھ نہیں ہے، سب کچھ مستقبل پر منحصر ہے۔‘