آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی ایک بار پھر اسلام آباد آمد، واشنگٹن کے ہوٹل میں فائرنگ کے ملزم سے تفتیش جاری

عباس عراقچی سنیچر کو اسلام آباد سے عمان گئے تھے، جہاں اُنھوں نے اتوار کو مسقط میں عمان کے سلطان سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اس سے قبل اسلام آباد آمد پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں فائرنگ کے واقعے پر کہا ہے کہ اُنھیں نہیں لگتا کہ اس کا تعلق ایران جنگ سے ہے۔

خلاصہ

  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔
  • ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو ہلٹن ہوٹل میں تقریب کے دوران گولیاں چلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانہ، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا
  • دورہ پاکستان میں ایران پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے فریم ورک سے متعلق مؤقف شیئر کیا: عباس عراقچی

لائیو کوریج

  1. ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    عباس عراقچی سنیچر کو اسلام آباد سے عمان گئے تھے، جہاں اُنھوں نے اتوار کو مسقط میں عمان کے سلطان سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    شیڈول کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں حکام سے ملاقاتوں کے بعد ماسکو کے لیے روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل اسلام آباد آمد پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔

  2. ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا: قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کے مقاصد کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے، لیکن ’ابتدائی‘ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر صدر سمیت اُن کی انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    این بی سی کے میٹ دی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹوڈ بلانچ کا کہنا تھا کہ تفتیش کار ان رپورٹس کو دیکھ رہے ہیں جن میں مبینہ بندوق بردار نے ہوٹل میں ہتھیار رکھا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ مشتبہ شخص ’زیادہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔‘

    بلائچ کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص نے ممکنہ طور پر لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر واشنگٹن ڈی سی تک ٹرین کے ذریعے سفر کیا۔

  3. حزب اللہ لبنان کے ساتھ جنگ ​​بندی معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کر رہی ہے: وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا الزام

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اللہ کے اقدامات اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا باعث بن رہے ہیں۔

    نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران مزید کہا کہ ’یہ سمجھنا چاہیے کہ حزب اللہ کی خلاف ورزیاں عملی طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی میں حصہ ڈالتی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان کے سات دیہات کو خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کا جواب دے گی۔

    فوج کے ترجمان نے ایکس پر کہا کہ ’حزب اللہ کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی روشنی میں، اسرائیلی فوج اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

  4. 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسلام آباد واپسی، عراقچی کے علاقائی دورے کا روٹ کیا ہے؟

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کو پاکستان واپس آئیں گے تاکہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی حکومت کا فریم ورک پیش کر سکیں۔

    عراقچی نے سنیچر کے روز اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور عمان روانگی سے قبل پاکستانی حکام سے ملاقات کی تھی۔

    عراقچی کی عمان روانگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا تھا۔

    ایران نے اصرار کیا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات طے نہیں ہوئے ہیں، جب کہ ٹرمپ نے کہا کہ دورہ منسوخ کرنے کا مطلب فوری طور پر دشمنی دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔

    عراقچی روسی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو کا سفر بھی کرنے والے ہیں۔

  5. وائٹ ہاؤس عشائیے پر فائرنگ کرنے والا ایک ٹیوٹر ہے جس نے بہترین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی: سیکیورٹی اہلکار

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق مبینہ شوٹر جس نے گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کی، وہ کیلیفورنیا میں مقیم ٹیوٹر تھا جو ایک اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی میں گیا تھا۔

    قانون نافذ کرنے والے دو اہلکاروں نے سی بی ایس کو بتایا کہ مشتبہ شخص جس کی شناخت امریکی میڈیا میں کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے ٹورینس میں ٹیوشن سروس کے لیے استاد تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اب بھی کمپنی میں ملازم تھا۔

    کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے سی بی ایس کو ایک ای میل میں تصدیق کی کہ ایلن نے 2017 میں یہاں سے گریجویشن کیا۔

  6. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی عمان کے سلطان سے ملاقات

    عمان کے سلطان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    عمان کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سلطان ہیثم بن طارق آل سعید نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسقط میں ملاقات کی، جس میں اُنھوں نے علاقائی معاملات اور تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں فریقوں نے پیشرفت پر اپنے خیالات کا جائزہ لیا، پائیدار سیاسی حل کے لیے زور دینے کی اہمیت پر زور دیا اور خطے کے لوگوں پر بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ بات چیت اور سفارت کاری کی ترجیح پر زور دیا۔

    ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے موجودہ چیلنجوں کی روشنی میں، مذاکرات کی کوششوں کی حمایت اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں سلطنت عمان کے کردار کی تعریف کی۔

  7. ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل ایک بحری جہاز کو روک کر واپس بھیج دیا گیا: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے ہفتے کے روز ایک تجارتی جہاز کو روکا جو ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز 19 جہازوں کے اس ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے جس پر ایرانی تیل اور گیس غیر ملکی منڈیوں میں لے جانے کا شبہ ہے۔

    سینٹکام کے مطابق بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا۔ اس ہیلی کاپٹر نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس پنکنی سے پرواز بھری۔

    سینٹکام کے مطابق اس جہاز کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایران واپس جائے۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پروپین اور بیوٹین سمیت اربوں ڈالر مالیت کی ایرانی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی کے بعد سے لے کر اب تک 37 جہازوں کو ’ری ڈائریکٹ‘ کیا گیا ہے۔

  8. ’فائرنگ کے واقعے پر دُکھ ہوا، میرے خیالات اور دعائیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں:‘ شہباز شریف

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے میں فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک پیغام میں کہا کہ ’فائرنگ کے اس واقعے پر گہرا دُکھ ہوا ہے اور میری دعائیں اور نیک خواہشات صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔‘

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’وہ صدر، خاتون اول اور نائب صدر کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں اور اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ تشدد کا راستہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ’تسلی‘ محسوس کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل سمیت حاضرین محفوظ ہیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیالات ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس پریشان کن واقعہ سے ہل گئے ہیں۔‘

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ اںھیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ جائے وقوعہ پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو سراہتے ہیں۔

  9. اس سے پہلے کب ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے؟

    سنیچر کی شب وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں امریکی صدر سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’آپ کے خیال میں آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا رہتا ہے؟‘

    پچھلے کچھ سالوں میں ٹرمپ کے ساتھ مختلف سکیورٹی واقعات ہوئے ہیں۔

    جولائی 2024 میں بٹلر، پینسلووینیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ان کے دائیں کان میں گولی لگی تھی۔ لیکن جب اُنھیں سکیورٹی اہلکاروں نے سٹیج سے اُتارا تو اس دوران اُنھوں نے نعرہ لگایا ’فائت۔ فائٹ فائٹ۔‘

    اس واقعے میں بھیڑ میں موجود ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔

    مہینوں بعد ستمبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو حفاظتی کے لیے لے جایا گیا جب ایک مشتبہ بندوق بردار شخص کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں اُن کے گالف کلب کی جھاڑیوں میں چھپے ہوئے دیکھا گیا۔

    فروری 2026 میں ایک مسلح شخص کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ صدر اُس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے۔

  10. ترک وزیرِ خارجہ کا امریکہ سمیت پاکستان اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ، مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں اور اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ترک وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    دو الگ الگ فون کالز میں فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی اور اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق جیسا کہ ترک خبر رساں ادارے انادولو نے سنیچر کی شام کو اطلاع دی تھی کہ ان رابطوں میں ایران اور امریکی فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بات ہوئی ہے۔

  11. ایران میں ایک شخص کو مسلح گروپ سے تعلق رکھنے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے جرم میں پھانسی دے دی گئی

    ایران میں ایک شخص کو مسلح گروپ سے تعلق رکھنے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان کی جانب سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ایران میں اتوار کے روز جس شخص کو پھانسی دی گئی ہے اُن کا تعلق سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل سے تھا اور وہ ملک کے جنوب مشرق میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں میں ملوث تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عامر رمیش کو صوبہ سیستان بلوچستان کے ضلع چابہار کے علاقے پیرسحراب میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم خبر رساں ادارے نے ان کی گرفتاری کی تاریخ یا ان کے خلاف جاری ہونے والے فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔

    رمیش کو کالعدم جیش العدل گروپ میں رکنیت کے علاوہ ’بم دھماکوں اور فوجی دستوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مجرم قرار دیا گیا تھا جسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

    ایران میں ایک عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی اور بعد میں ان کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔

    تاہم عدلیہ کے مطابق آج صبح انھیں بھانسی دے دی گئی۔

  12. نہیں لگتا اس حملے کا تعلق ایران جنگ سے ہے لیکن ابھی یقین سے کُچھ نہیں کہہ سکتے: صدر ٹرمپ

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے اس واقعے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور اُن کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے پر حملہ کرنے والا اور فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ’لون ولف‘ تھا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ اسے اکیلا حملہ آور سمجھ رہے ہیں، اور میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔‘

    ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور کیا اس واقعے کا تعلق ایران میں جنگ سے ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ہم بہت جلد مزید معلومات حاصل کر لیں گے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین لوگ اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمیں ایران کے حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیں گے۔ ہم نے بی 2 بمبار طیاروں کے ذریعے کارروائی کی۔ میں نے اپنی پہلی مدت میں اوباما دور کا ایران جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا، جو ایک تباہ کن معاہدہ تھا اور جوہری ہتھیار کے حصول کی راہ ہموار کر رہا تھا۔ وہ یقیناً اسے استعمال کرتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ ایسے اقدامات کرتے ہیں تو آپ خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر میں یہ سب نہ کر رہا ہوتا تو شاید میں کم ہدف بنتا لیکن میں جو کر رہا ہوں مجھے اس پر فخر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ اکثر ایسی کہانیاں سنتے ہیں کہ لوگ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ یہ واقعہ مجھے ایران کے خلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتا۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک اس واقعے کے تعلق کا سوال ہے میرے خیال میں جو معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘

    (’لون ولف‘ کی اصطلاح عموماً اس فرد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اکیلے ہی کسی پرتشدد یا مجرمانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کرے یا کسی انتہا پسند تنظیم سے براہِ راست وابستہ نہ ہو۔)

    یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالات بدستور کشیدہ ہیں تاہم دونوں مُمالک کے درمیان جانگ بندی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ دو مشیر بھی پاکستان بھیجے جائیں گے، تاہم عراقچی کے عمان روانہ ہونے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ایران جنگ سے متعلق مذاکرات کے لیے پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: ’ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں! اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں کال کر لیں!!!‘

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ 11 اور 12 اپریل کو 21 گھنٹے تک امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ جہاں ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

  13. عباس عراقچی کا مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، جنگ بندی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کی جانب سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران جنگ بندی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے اس ٹیلیفونک رابطے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی نے سفارتی امور، امریکہ اسرائیل جنگ میں جنگ بندی اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    تاہم دوسری جانب عباس عراقچی نے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور انھیں بھی جنگ بندی سے متعلق تازہ پیش رفت اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    یادہ رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں کئی ہفتوں تک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں خلیج فارس میں امریکی و اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور 40 دنوں کے دوران 100 جوابی کارروائیوں میں بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

    تاہم آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ ان مذاکرات کے دوران ایران نے دس نکاتی تجویز پیش کی جس میں امریکی افواج کے انخلا اور پابندیوں کے خاتمے کو شامل کیا گیا تھا۔

    تاہم 11 اور 12 اپریل کو 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ جہاں ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

    ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات کی بحالی امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہے جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا جاری رہنا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

  14. فائرنگ کے بعد وہ لمحہ جب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے لے جایا گیا

    سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

    فائرنگ کے وقت تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد امریکی اعلیٰ حکام موجود تھے۔

    فائرنگ کے فوراً بعد صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس نے انھیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔

    ویڈیو میں آپ وہ لمحہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب سیکرٹ سروس کے اہلکار نائب صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے محفوظ مقام کی جانب لے جاتے ہیں۔

  15. بریکنگ, مشتبہ حملہ آور کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے دار تھے، سی بی ایس

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے کے دوران کم از کم پانچ سے آٹھ گولیاں چلائی گئیں۔

  16. عمان ایران تعلقات ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی مثال ہیں، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’عمان اور ایران کے تعلقات خطے کے جنوبی ممالک کے ساتھ ایران کی جانب سے باہمی احترام اور مفاد پر مبنی تعلقات کے حقیقی عزم کی مثال ہیں۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے یہ بات سنیچر کے روز ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ دورے پر عمان پہنچنے پر کہی۔

    اسماعیل بقائی نے لکھا کہ کہ یہ دورہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ امریکہ اسرائیل کشیدگی کے بعد خطے کا پہلا دورہ ہے جس نے وسیع تر خطے کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔

    بقائی کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ سنیچر کی شب پاکستان کے دورے کے بعد رات مسقط پہنچے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ عمانی اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ عراقچی عمان کے دورے کے بعد اور روس جانے سے قبل دوبارہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے۔

    یاد رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی چند گھنٹے قبل ہی پاکستان سے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے پاکستانی حکام سے بات چیت کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابھی یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے پاکستان میں مذاکرات کے لیے طے شدہ دورے کو منسوخ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں۔‘

  17. برطانیہ کے امریکہ میں سفیر کرسچن ٹرنر کا سیکرٹ سروس کا شکریہ, بی بی سی نیوز کے نانہ نگار برائے وائٹ ہاؤس، برنڈ ڈیبسمین جونیئر

    برطانیہ کے امریکہ میں سفیر کرسچن ٹرنر نے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے ایک پیغام میں امریکی سیکرٹ سروس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    برطانوی سفارت خانے کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ ٹرنر خود بھی عشائیے میں شریک تھے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’آج رات وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں شریک سفارت خانے کی ٹیم سیکرٹ سروس کے فوری اور پیشہ ورانہ ردعمل پر شکر گزار ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات پر شکر گزار ہیں کہ صدر اور تقریب میں موجود دیگر افراد محفوظ رہے اور زخمی اہلکار کی مکمل صحت یابی کے لیے بھی ہم دعا گوہ ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اس عشائیے میں شرکت کے لیے متعدد سیاستدان، سفارتکار اور دیگر اہم اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔

  18. امریکی قانون سازوں کا جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار

    سوشل میڈیا پر کانگریس کے متعدد اراکین نے دونوں جماعتوں سے تعلق کے باوجود اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ صدر اور خاتونِ اوّل محفوظ ہیں۔ انھوں نے سیکرٹ سروس اہلکاروں کی فوری کارروائی کو سراہا اور تشدد کی مذمت کی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی پر شکر گزار ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں تشدد اور افراتفری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

    ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بھی اس عشائیے میں موجود تھے اور وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرسٹ ریسپانڈرز کے شکر گزار ہیں جنھوں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا۔‘

  19. آج کی فائرنگ اسی مقام پر ہوئی جہاں سنہ 1981 میں صدر ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا

    آج کا فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل (کنیکٹیکٹ ایونیو) میں پیش آیا، وہی ہوٹل کہ جہاں سنہ 1981 میں رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

    یہ واقعہ 30 مارچ 1981 کو پیش آیا تھا کہ جب حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے اس وقت کے صدر ریگن پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ہوٹل کے اندر ایک خطاب کے بعد اپنی لیموزین کی طرف واپس جا رہے تھے۔

    ریگن اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے تاہم انھیں اس وقت شدید چوٹیں آئیں جب ایک گولی صدر کی لیموزین کے پہلو سے ٹکرا کر ان کے جسم میں لگی۔ جس سے ان کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا تھا۔

    انھیں اس واقعے کے فوری بعد قریبی جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے وہ 11 اپریل کو ڈسچارج ہوئے تھے۔

    اس وقت کے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی اسی واقعے میں زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور میٹروپولیٹن پولیس کا ایک مقامی افسر بھی زخمیوں میں شامل تھے۔

    بریڈی کو اس واقعے میں دماغی چوٹ آئی جس کے باعث وہ زندگی بھر معذوری کا شکار رہے اور ان کی یہ حالت بعد ازاں سنہ 2014 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔

    بعد ازاں اگلے سال جان ہنکلی جونیئر کو ذہنی بیماری کی بنا پر مجرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انھیں واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ ہسپتال کے انتہائی سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا جہاں سے انھیں سنہ 2016 میں رہا کیا گیا۔

    آج بھی اس فائرنگ کے مقام پر ہوٹل کی دیوار پر ایک تختی نصب ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتی ہے۔

  20. میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو، ٹرمپ, بی بی سی نیوز کے ہاؤس سے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    یہ گزشتہ چند سالوں میں تیسرا موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اردگرد فائرنگ یا مبینہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ ایک طرح کے تسلسل کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    میں خود بھی 13 جولائی سنہ 2024 کو پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں موجود تھا کہ جب 20 سالہ تھامس کروکس نے ٹرمپ پر فائرنگ کی تھی اور واشنگٹن میں آج کا ماحول اس دن کے میرے تجربے سے کافی حد تک قریب ہے۔

    ایک اور فائرنگ کے واقعے سے گزرنے کے باوجود صدر ٹرمپ کا موڈ نسبتاً پُرسکون اور خوشگوار دکھائی دیا۔

    تاہم یہ امکان کہ وہ کسی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں ایسا موضوع ہے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی بارہا بات کی ہے۔

    انھوں نے پریس بریفنگ روم میں کہا کہ ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو۔‘

    ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کا اس سے قبل بھی یہ ماننا ہے کہ بٹلر میں ہونے والا حملہ شاید امریکی صدر کے لیے سب سے زیادہ اہم تھا۔

    اگرچہ اس واقعے کے محرکات اب بھی واضح نہیں لیکن آج کی رات کے واقعات بھی بظاہر ایک اور اہم واقعے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

    صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کہ یہ عہدہ اپنی نوعیت میں انتہائی خطرناک ہے کو آج کے حالات میں مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

    آج کا یہ واقعہ اسی ہوٹل کے اندر پیش آیا جہاں 1981 میں اُس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

Trending Now