آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔
  • ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو ہلٹن ہوٹل میں تقریب کے دوران گولیاں چلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانہ، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا
  • دورہ پاکستان میں ایران پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے فریم ورک سے متعلق مؤقف شیئر کیا: عباس عراقچی

لائیو کوریج

  1. ایرانی وزیر خارجہ عباس عباسعراقچی کی وفد کے ہمراہ روس روانگی

    بی بی سی فارسی نے کچھ دیر قبل خبر دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ اپنے دورے کو جاری رکھتے ہوئے روس روانہ ہو گئے ہیں۔

    عباس عراقچی کل ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل اسلام آباد اور مسقط کے دورے کے دوران پاکستانی اور عمانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

  2. مشتبہ حملہ آور کو حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، سی بی ایس کی رپورٹ

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کا مشتبہ حملہ آور اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے شمال مغربی علاقے میں میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں زیرِ حراست ہے۔

    ان کے مطابق اسے آج بعد میں دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد پیر کے روز مشتبہ حملہ آور کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا تھا۔

  3. ایرانی وفد کا دورۂ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے تھا: ایرانی سفیر

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کرنا تھا اور یہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ یہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاقائی سفارتی دورے کے آغاز کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق اس دوران پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کی جانب سے مکمل تعاون رہا۔

    رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

    ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا: ایرانی سفیر

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پچھلے مرحلے کی طرح اس بار بھی ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا، جو پاکستانی حکام کی مؤثر منصوبہ بندی اور انتظامات کا نتیجہ تھا۔

    اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے فوج کے عملے، سکیورٹی فورسز، پولیس، سرکاری اداروں کے ملازمین اور بالخصوص اسلام آباد کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے اس عرصے کے دوران مہمان نوازی، تعاون اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

    انھوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنی ٹویٹ میں سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف ٹریفک پابندیاں ختم کیے جانے اور شہریوں کے صبر پر شکریہ کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے لکھا تھا کہ ’ میں اہلِ پاکستان، بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے صبر اور تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی حمایت ہمیں اپنے مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔‘

  4. کنگ چارلس کا امریکہ کا سرکاری دورہ منصوبے کے مطابق ہوگا: بکنگھم پیلس

    بکنگھم پیلس نے تصدیق کی ہے کہ کنگ چارلس کا امریکہ کا سرکاری دورہ ’منصوبے کے مطابق ہوگاـ‘

    بکنگھم پیلس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ’دن بھر بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر ہونے والی بات چیت ‘کے بعد کیا گیا۔

    برطانیہ کے بادشاہ اور ملکہ پیر کے روز چار روزہ سرکاری دورے کے لیے امریکہ روانہ ہونے والے ہیں اور ان کے شیڈول میں وائٹ ہاؤس میں صدر صٹٹرمپ سے ملاقات بھی شامل ہے۔

    پیغام کے مطابق ’بادشاہ اور ملکہ ان تمام لوگوں کے بے حد شکر گزار ہیں جنھوں نے تیزی کے ساتھ کام کیا تاکہ یہ صورتِ حال برقرار رہے، اور وہ کل دورے کے آغاز کے منتظر ہیں۔‘

  5. عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے: ایرانی میڈیا

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان واپسی پر ’جوہری ریڈ لائنز اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کو ایران کے تحریری پیغامات لے کر جا رہے تھے۔‘

    عباس عراقچی یہ پیغامات پاکستانی حکام تک پہنچانے والے ہیں۔

    انھوں نے ایک گھنٹہ قبل پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔ فارس نے لکھا کہ پیغامات کی اس ترسیل کا ’مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے خطے کی صورتحال کو واضح کرنے اور ہمارے ملک کی سرخ لکیروں کا واضح طور پر اعلان کرنے کے لیے ایران کی جانب سے ایک پہل سمجھا جاتا ہے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ مسقط سے واپس اسلام آباد پہنچے تھے۔ ایران کے مطابق وہ اسلام آباد سے ماسکو پہنچیں گے جہاں پیر کے روز ان کی روسی صدر پوتن سے ملاقات طے ہے۔

    ایران نیوز نیٹ ورک کے مطابق عباس عراقچی نے عمان کے بادشاہ کے ساتھ ملاقات میں ’خلیج فارس میں ایک نیا نظام قائم کرنے کی ضرورت‘ پر زور دیا۔

  6. عراقچی پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: روس میں ایران کے سفیر

    ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی دارالحکومت ماسکو کے دورے کے دوران صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

    کاظم جلالی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ ماسکو میں ’مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال، جنگ بندی اور علاقائی پیش رفت کے بارے میں روسی حکام کے ساتھ بات چیت کریں گے۔‘

    عباس عراقچی مسقط میں عمان کے سلطان سے ملاقات کے بعد واپس اسلام آباد پہنچے تھے اور پاکستانی حکام سے بات چیت کے بعد ماسکو روانہ ہونے والے ہیں۔

  7. ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ایرانی ہم سے بات کرنا چاہیں تو رابطہ کر سکتے ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

    واشنگٹن ڈی سی کے ہوٹل میں فائرنگ کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کل ایک اُداس شام تھی لیکن وہ اور خاتون اول ٹھیک ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مبینہ ’مسلح شخص کے دل میں نفرت تھی اور وہ اینٹی کرائسٹ تھا۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں سیکیورٹی مسائل سے بچنے کے لیے وائٹ ہاؤس کے بال روم کی ضرورت ہو گی۔

    برطانوی بادشاہ چارلس کے دورے کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ وہ شیڈول کے مطابق امریکہ آ رہے ہیں۔

  8. وفاقی پاور ڈویژن کی نیپرا کو 25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لائسنس اور فیس کے خاتمے کی درخواست, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے درخواست کی ہے کہ 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کی جائے۔

    اتوار کو جاری ایک بیان میں پاور ڈویژن نے کہا کہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر نیپرا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر صارفین سے نہ تو درخواست فیس لی جائے اور نہ ہی انہیں لائسنس کے عمل سے گزارا جائے۔

    پاور ڈویژن کے مطابق، اس سے قبل بھی نیپرا کو اس فیصلے کے ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ کیا جا چکا ہے اور درخواست کی گئی تھی کہ نئے ضوابط کو سابقہ پالیسی کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا: “ہماری حکومت سولر توانائی اور صارفین کے حق میں ہے اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنا، اخراجات کم کرنا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا چاہتے ہیں۔”

    2015 کے سابقہ ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن تنصیبات کے لیے نیپرا سے لائسنس درکار نہیں تھا۔ اس وقت درخواستیں براہِ راست بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے بغیر کسی فیس کے نمٹائی جاتی تھیں، جو گھریلو صارفین کے لیے ایک اہم مالی سہولت تھی۔

    تاہم، نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت منظوری کا اختیار مرکزی سطح پر نیپرا کو منتقل کر دیا گیا اور چھوٹی سولر تنصیبات پر بھی درخواست فیس عائد کر دی گئی۔

    پاور ڈویژن کے مطابق، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس ریگولیٹری تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر نظام کے لیے سابقہ منظوری کے طریقۂ کار کو برقرار رکھا جائے۔

    مزید برآں، عوامی سماعتوں کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی ان تبدیلیوں پر باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔

  9. ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی اتوار کو عمان سے پاکستان پہنچے ہیں۔

    اسلام آباد میں کچھ دیر قیام کے بعد ایرانی وزیر خارجہ ماسکو جائیں گے۔

  10. فائرنگ کے دوران صدر ٹرمپ مکمل طور پر بے خوف رہے: ترجمان وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جو ایک تفریحی شام سمجھی جا رہی تھی اسے ’ایک بیمار ذہن والے شخص‘ نے ہائی جیک کر لیا، اس نے صدر کو قتل کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ سے زیادہ اعلیٰ عہدیداروں کو مارنے کی کوشش کی۔

    ایکس پر ایک بیان میں لیویٹ کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے ساتھ بیک سٹیج پر تھیں جب ہمیں سیکرٹ سروس کی طرف سے فوری طور پر وہاں سے لیجایا گیا۔ لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر اس وقت بالکل بے خوف تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سیاسی تشدد کا ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ہم سب کو محفوظ رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ۔‘

  11. ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

    عباس عراقچی سنیچر کو اسلام آباد سے عمان گئے تھے، جہاں اُنھوں نے اتوار کو مسقط میں عمان کے سلطان سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

    شیڈول کے مطابق عباس عراقچی اسلام آباد میں حکام سے ملاقاتوں کے بعد ماسکو کے لیے روانہ ہوں گے۔

    اس سے قبل اسلام آباد آمد پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔

  12. ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا: قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کے مقاصد کے بارے میں ابھی تفتیش جاری ہے، لیکن ’ابتدائی‘ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر صدر سمیت اُن کی انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    این بی سی کے میٹ دی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹوڈ بلانچ کا کہنا تھا کہ تفتیش کار ان رپورٹس کو دیکھ رہے ہیں جن میں مبینہ بندوق بردار نے ہوٹل میں ہتھیار رکھا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ مشتبہ شخص ’زیادہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔‘

    بلائچ کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص نے ممکنہ طور پر لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر واشنگٹن ڈی سی تک ٹرین کے ذریعے سفر کیا۔

  13. حزب اللہ لبنان کے ساتھ جنگ ​​بندی معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کر رہی ہے: وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا الزام

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اللہ کے اقدامات اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا باعث بن رہے ہیں۔

    نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران مزید کہا کہ ’یہ سمجھنا چاہیے کہ حزب اللہ کی خلاف ورزیاں عملی طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی میں حصہ ڈالتی ہیں۔‘

    اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان کے سات دیہات کو خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کا جواب دے گی۔

    فوج کے ترجمان نے ایکس پر کہا کہ ’حزب اللہ کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی روشنی میں، اسرائیلی فوج اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

  14. 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسلام آباد واپسی، عراقچی کے علاقائی دورے کا روٹ کیا ہے؟

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار کو پاکستان واپس آئیں گے تاکہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی حکومت کا فریم ورک پیش کر سکیں۔

    عراقچی نے سنیچر کے روز اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور عمان روانگی سے قبل پاکستانی حکام سے ملاقات کی تھی۔

    عراقچی کی عمان روانگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا تھا۔

    ایران نے اصرار کیا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات طے نہیں ہوئے ہیں، جب کہ ٹرمپ نے کہا کہ دورہ منسوخ کرنے کا مطلب فوری طور پر دشمنی دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔

    عراقچی روسی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ماسکو کا سفر بھی کرنے والے ہیں۔

  15. وائٹ ہاؤس عشائیے پر فائرنگ کرنے والا ایک ٹیوٹر ہے جس نے بہترین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی: سیکیورٹی اہلکار

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق مبینہ شوٹر جس نے گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کی، وہ کیلیفورنیا میں مقیم ٹیوٹر تھا جو ایک اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی میں گیا تھا۔

    قانون نافذ کرنے والے دو اہلکاروں نے سی بی ایس کو بتایا کہ مشتبہ شخص جس کی شناخت امریکی میڈیا میں کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے ٹورینس میں ٹیوشن سروس کے لیے استاد تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اب بھی کمپنی میں ملازم تھا۔

    کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے سی بی ایس کو ایک ای میل میں تصدیق کی کہ ایلن نے 2017 میں یہاں سے گریجویشن کیا۔

  16. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی عمان کے سلطان سے ملاقات

    عمان کے سلطان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    عمان کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سلطان ہیثم بن طارق آل سعید نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسقط میں ملاقات کی، جس میں اُنھوں نے علاقائی معاملات اور تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں فریقوں نے پیشرفت پر اپنے خیالات کا جائزہ لیا، پائیدار سیاسی حل کے لیے زور دینے کی اہمیت پر زور دیا اور خطے کے لوگوں پر بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ بات چیت اور سفارت کاری کی ترجیح پر زور دیا۔

    ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے موجودہ چیلنجوں کی روشنی میں، مذاکرات کی کوششوں کی حمایت اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں سلطنت عمان کے کردار کی تعریف کی۔

  17. ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل ایک بحری جہاز کو روک کر واپس بھیج دیا گیا: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے ہفتے کے روز ایک تجارتی جہاز کو روکا جو ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز 19 جہازوں کے اس ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے جس پر ایرانی تیل اور گیس غیر ملکی منڈیوں میں لے جانے کا شبہ ہے۔

    سینٹکام کے مطابق بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا۔ اس ہیلی کاپٹر نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس پنکنی سے پرواز بھری۔

    سینٹکام کے مطابق اس جہاز کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایران واپس جائے۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پروپین اور بیوٹین سمیت اربوں ڈالر مالیت کی ایرانی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی کے بعد سے لے کر اب تک 37 جہازوں کو ’ری ڈائریکٹ‘ کیا گیا ہے۔

  18. ’فائرنگ کے واقعے پر دُکھ ہوا، میرے خیالات اور دعائیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں:‘ شہباز شریف

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے میں فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک پیغام میں کہا کہ ’فائرنگ کے اس واقعے پر گہرا دُکھ ہوا ہے اور میری دعائیں اور نیک خواہشات صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔‘

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’وہ صدر، خاتون اول اور نائب صدر کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں اور اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ تشدد کا راستہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ’تسلی‘ محسوس کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل سمیت حاضرین محفوظ ہیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیالات ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس پریشان کن واقعہ سے ہل گئے ہیں۔‘

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ اںھیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ جائے وقوعہ پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو سراہتے ہیں۔

  19. اس سے پہلے کب ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے؟

    سنیچر کی شب وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں امریکی صدر سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’آپ کے خیال میں آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا رہتا ہے؟‘

    پچھلے کچھ سالوں میں ٹرمپ کے ساتھ مختلف سکیورٹی واقعات ہوئے ہیں۔

    جولائی 2024 میں بٹلر، پینسلووینیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ان کے دائیں کان میں گولی لگی تھی۔ لیکن جب اُنھیں سکیورٹی اہلکاروں نے سٹیج سے اُتارا تو اس دوران اُنھوں نے نعرہ لگایا ’فائت۔ فائٹ فائٹ۔‘

    اس واقعے میں بھیڑ میں موجود ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔

    مہینوں بعد ستمبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو حفاظتی کے لیے لے جایا گیا جب ایک مشتبہ بندوق بردار شخص کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں اُن کے گالف کلب کی جھاڑیوں میں چھپے ہوئے دیکھا گیا۔

    فروری 2026 میں ایک مسلح شخص کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ صدر اُس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے۔

  20. ترک وزیرِ خارجہ کا امریکہ سمیت پاکستان اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ، مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں اور اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ترک وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    دو الگ الگ فون کالز میں فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی اور اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق جیسا کہ ترک خبر رساں ادارے انادولو نے سنیچر کی شام کو اطلاع دی تھی کہ ان رابطوں میں ایران اور امریکی فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بات ہوئی ہے۔

Trending Now