آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس: ’پہلے نئی رپورٹ آنے دیں، پھر غیر مشروط معافی کو دیکھا جائے گا‘
پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق خاوند خاور مانیکا اور بیٹی کے ساتھ پولیس کے مبینہ طور پر ناروا سلوک پر پاکپتن کے ضلعی پولیس افسر کے تبادلے سے متعلق آئی جی پنجاب کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے تازہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کے حکم پر پنجاب کے وزیر اعلٰی عثمان بزدار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور غیر مشروط معافی مانگی۔
ان کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کی دوست کے شوہر اور مانیکا خاندان کے مبینہ ’گارڈیئن‘ احسن اقبال جمیل گجر اور پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کیلم امام نے بھی پاکپتن کے ضلعی پولیس افسر رضوان گوندل کے تبادلے پر سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگی۔
تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے اس بارے میں نئی رپورٹ آنے دیں، پھر اس غیر مشروط معافی کو دیکھا جائے گا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کلیم امام کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محض ایک شخص کو بچانے کے لیے ’سب اچھا‘ کی رپورٹ دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کے کوارڈینیٹر کو اس ضمن میں انکوائری افسر مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پندرہ روز میں نئی رپورٹ مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعلی نے عدالت کو بتایا کہ وہ خاور مانیکا کے ساتھ ہونے والے واقعے کا افہام تفہیم سے حل چاہتے تھے، اس لیے ڈی پی او پاکپتن کو بلایا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کے سابق سربراہ اور سندھ پولیس کے آئی جی کلیم امام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ک جب وہ خود ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں موجود نہیں تھے تو اُنھوں نے کیسے یہ تصور کرلیا کہ ڈی پی او پاکپتن قصور وار ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے یہ رپورٹ خود تیار کی ہے یا کسی کے کہنے پر اس رپورٹ میں ’سب اچھا‘ کہا گیا ہے؟ چیف جسٹس نے کلیم امام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے کسی کو بچانے کے لیے اپنے ہی ماتحت افسر سمیت پوری فورس کو کو جھوٹا ثابت کردیا۔
کلیم امام نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے اس معاملے کی تحقیقات کی ہیں۔
عدالت نے ان کا موقف مسترد کردیا اور کلیم امام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ملک کے کسی حصے میں جاکر عوام کی خدمت کرسکیں۔
عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست اور مانیکا خاندان کی مبینہ دیکھ بھال کرنے والے جمیل گجر کو بھی طلب کیا۔
اس کے علاوہ عدالت نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
اس موقع پر آئی جی سندھ کلیم امام نے کہا کہ وہ خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے انصاف کی توقع کررہے تھے، آپ ہم سے معافی مانگ رہے ہیں۔