بلوچستان میں ٹارگٹ کلِنگ میں اضافہ

بلوچستان میں مزاحمت کار
،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں فوج کو مسلح مزاحمت کا سامنا ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس سال اب تک دو مہینوں سے کم وقت میں صوبے کے مختلف شہروں میں لگ بھگ پینتالیس افراد کو ہلاک اور زخمی کیا گیا ہے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق صوبہ پنجاب اور کشمیر سے رہا ہے لیکن اس مہینے کی تئیس تاریخ کو بلوچ افسر اور لکھاری جان محمد دشتی پر حملے سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

کوئٹہ میں ایک طرف دیگر صوبوں کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری جانب مبینہ فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں اور مذہبی حوالے سے لشکر جھنگوی نامی تنظیم قبول کر چکی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سریاب روڈ پر پیش آنے والے واقعات میں حملہ آور بڑی تسلی سے حملے کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ سب غلط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات پاکستان میں پیش آتے رہے ہیں لیکن اب یہ بلوچستان میں ہو رہے ہیں جن میں ایسی قوت ملوث ہے جو یہاں امن نہیں دیکھنا چاہتی۔

اس مہینے کی تئیس تاریخ کی صبح کوئٹہ کے سریاب روڈ پر بلوچستان حکومت کے سیکرٹری معدنیات اور آساپ اخبار کے مالک جان محمد دشتی پر حملہ کیا گیا جس میں وہ اور ان کے ڈرائیور زخمی ہوئے ہیں۔

آساپ اخبار کے ایڈیٹر عابد میر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کچھ اداروں کی جانب سے انہیں ٹیلیفون کالز موصول ہو رہی تھیں لیکن یہ سب کچھ ہو جائے گا انہیں اس کا گمان نہیں تھا۔

جان محمد دشتی کا تعلق مکران ڈویژن کے شہر کیچ سے ہے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ وہ کوئٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر رہے اور بعد میں گوادر کے کمشنر رہے ہیں۔

انہوں نے سن دو ہزار ایک میں بلوچ بلوچیت اور بلوچستان کے موٹو سے روزنامہ آساپ شروع کیا ۔ انہوں نے پانچ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے چار بلوچی زبان میں ہیں اور وہ قلمی نام سے لکھا کرتے ہیں۔

اس بارے میں تجزیہ کار اور اخبار کے مالک انور ساجدی نے کہا ہے کہ جان محمد کی تین حیثیتیں ہیں۔ ان میں ایک ان کی ملازمت اور اس وقت ان کے پاس انتہائی اہم عہدہ ہے جو معدنیات کے حوالے سے ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک اخبار کے مالک ہیں اور ان کا اخبار بلوچ قوم پرستی کے حوالے سے اپنا ایک موقف رکھتا ہے اور وہ اس موقف کو زور شور سے پیش کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے ایک سیاسی حیثیت بھی ہے۔

پولیس اب تک اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کر پائی ہے اور اس بارے میں انسپکٹر جنرل پولیس اور وزیر داخلہ رابطے میں آتے ہی نہیں ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والی ایک کالعدم تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیوں میں بےگناہ بلوچوں کو مارا جاتا ہے تو اس پر کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رہنما حکیم لہڑی سے میں نے پوچھا کہ اب حالات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں تو انہوں نے کہا حکومت کو فوجیوں کو واپس بیرکوں میں بھیجنا چاہیے اور متعلقہ افراد سے بات چیت کرنی چاہیے۔ 'حکومت کو مزاحمت کاروں سے بات کرنی چاہیے، نواب خیر بخش مری سے بات کرنی چاہیے۔ ان لوگوں سے بات کرنا جو ہمیشہ ہر جرگے میں موجود ہوتے ہیں اور وہ سرکار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘

بلوچستان میں اس وقت نواب ذوالفقار مگسی گورنر اور نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلی ہیں اور یہ ایسی شخصیات ہیں جو اگر کوشش کریں تو بلوچستان کے مسائل کے حل میں پیش رفت کرا سکتے ہیں۔