پیپلز پارٹی بھی بچ گئی

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا اعلان بظاہر تو حزب مخالف اور وکلاء کے ایک بڑے جلوس کی وجہ سے ہوا لیکن امریکہ اور برطانیہ کہتے ہیں کہ یہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ’سٹیٹسمینشپ‘ کا مظہر ہے۔
پاکستان میں ججوں کی بحالی کے اعلان کے فوری بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے بیان اور کچھ دیر بعد برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے بیان میں حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جہاں سیاسی کشیدگی کم ہوگی وہاں مصالحت کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔
دنیا کے دونوں اہم ممالک نے ججوں کی بحالی کے حکومتی فیصلے کو صدر اور وزیراعظم کی سٹیسمینشپ کا مظہرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے فریقین کے درمیان بات چیت اور معاہدوں میں معاونت کے ساتھ ساتھ گارنٹی دینے والے امریکہ اور برطانیہ کے نمائندے پچیس فروری کو شروع ہونے والے نئے بحران کے بعد بھی اتنا ہی سرگرم دکھائی دیئے جتنا کہ پہلے تھے۔
امریکی سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر اسلام آباد میں صدر اور وزیراعظم سے ملنے کے بعد لاہور میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے ملنے پہنچے۔ امریکی صدر براک اوباما کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک بھی سرگرم رہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ججوں کی بحالی میں ان کی کوششوں کا بھی ایک حد تک عمل دخل ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔
شریف برادران کی نا اہلی اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ سے پیدا ہونے والے بحران کے حل ہونے میں جہاں بیرونی دباؤ نظر آتا ہے وہاں اندرونی دباؤ بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔
اندرونی دباؤ حکومت کی دو بڑی اتحادی جماعتوں کے سربراہان اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات ہوں، میاں رضا ربانی، شیری رحمٰن اور انور بیگ کے اہم عہدوں سے مستعفی ہونا ہو یا پھر صفدر عباسی اور ناہید خان کی جانب سے ’بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی‘ کی جانب سے وکلا تحریک کی حمایت کا اعلان۔ بظاہر یہ عوامل بھی حکمرانوں کا ذہن بدلنے کی بنیادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اِس وقت صدر زرداری محاذ آرائی اختیار کرتے تو یہ بھی ممکن تھا کہ مخدوم امین فہیم سمیت پارٹی کے بعض دیگر سینئر رہنما بھی حکومت سے علیحدگی اختیار کرسکتے تھے اور پیپلز پارٹی کا ’بینظیر بھٹو گروپ‘ بن سکتا تھا۔ ان کے مطابق صدر نے ججوں کی بحالی کا فیصلہ کرکے ایک لحاظ سے اپنی پارٹی کو ممکنہ ٹوٹ پھوٹ سے بچالیا ہے۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی جس طرح گزشتہ چند روز میں صدر اور وزیراعظم سے با بار ملتے رہے اس کا بھی اس صورتحال میں ایک اہم کردار ہے۔ لیکن بعض مبصرین کی یہ بھی رائے ہے کہ آرمی بطور ادارہ یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ عدلیہ اتنا مضبوط ادارہ بن جائے جس کے سامنے وہ جوابدہ بن جائے۔ کیونکہ ان کے بقول جس طرح لاپتہ افراد کے معاملے میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کی جواب طلبی کی تھی اُسے فوج اپنی تضحیک سمجھ رہی تھی اور فوجی صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں افتخار چودھری کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ وہ جواب طلبی بھی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں حسین حقانی کی بیگم، پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور صدر آصف علی زرداری کی میڈیا ٹیم کی رکن فرح اصفہانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے بینظیر بھٹو کی خواہش پوری کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے۔ ’ہم نے ملک کو سیاسی بحران سے انتہائی بالغ نظری اور سیاسی انداز سے نکالا ہے۔‘
آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست کا کہنا کہ ججوں کی بحالی کا یہ ’معجزانہ فیصلہ‘ انہوں نے کسی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی تیزی سے کم ہوتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے کیا ہے۔ ان کے بقول آصف علی زرداری کا یہ پسندیدہ جملہ ہے کہ ’جو ڈر گیا وہ مر گیا۔‘ لہٰذا انہوں نے یہ فیصلہ کرکے دنیا کو بتایا ہے کہ وہ ایک لچکدار شخصیت کے مالک ہیں اور قومی معاملات میں وہ ذاتی انا یا ضد کو قربان کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کا فیصلہ کرکے صدر آصف علی زرداری نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اکیس مارچ کو ریٹائر ہوں گے اور ان کی جگہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نئے چیف جسٹس بنیں گے۔ وزیراعظم نے یہ اعلان تو کیا ہے لیکن تادمِ تحریر بحالی کا نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا۔ اس نوٹیفکیشن سے ہی یہ معلوم ہوگا کہ افتخار محمد چودھری کو بحال کیا گیا ہے یا کہ دوسرے ججوں کی طرح دوبارہ تقرر کیا گیا ہے۔ اگر دوبارہ تقرر ہوا ہے تو افتخار محمد چودھری کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ہاتھوں حلف بھی اٹھانا ہوگا۔ افتخار چودھری کے دوبارہ حلف کی وکلاء مخالفت کرتے رہے ہیں اور اگر اب بھی ایسا ہی ہوا تو پھر ایک نیا ’پنگا‘ شروع ہوگا۔





















