’قیامت کا منظر ہے‘
- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
نور محمد، خاصہ دار فورس کے اہلکار
جمعہ کی نماز کی نیت باندھنے سے قبل ایک زور دار دھماکا ہوا۔ میں نماز کے لیے مسجد کے صحن میں کھڑا تھا کیونکہ میں تھوڑی دیر میں پہنچا اور مجھے مسجد کے اندر جگہ نہ ملی۔ دھماکے کے بعد مسجد کے دروازے سے آگ کے شعلے اٹھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مسجد زمین بوس ہو گئی۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ صحن میں موجود لوگ بھی گر گئے۔ میں خود تو معمولی زخمی ہوا ہوں لیکن میں نے بیس لاشیں تو خود دیکھی ہیں۔
ڈاکٹر پیر محمد
ہمیں تقریباً دو بجے اطلاع ملی تھی کہ بم دھماکا ہوا ہے اور آپ زخمی افراد کے لیے تیار رہیں۔ ہمارے پاس تقریباً ساٹھ زخمی آئے تھے اور ان میں سے دس کو طبی امداد دے کر فارغ کردیا ہے جبکہ پچاس افراد کو دوسرے ہسپتال ریفر کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہسپتال میں چوبیس لاشیں لائی گئیں۔ ہمارے پاس گاڑیاں اور ادویات موجود ہیں اور ہم سے جو کچھ ہو سکا ہم نے کیا۔ ہمارے ہسپتال میں چھوٹے موٹے آپریشنز کرنے کی سہولت موجود ہے لیکن بڑی آپریشن کی سہولت نہیں۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ہلاک ہونے والوں یا زخمیوں میں کتنے سکیورٹی اہلکار ہیں۔ ہم تو صرف علاج کر رہے ہیں۔
حضرت علی
میں مسجد کے سامنے کھڑا ہوں اور ملبے میں دبی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ جیسے ہی دھماکہ ہوا ہے تو چھیالیس لوگ اسی وقت ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کچھ ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔ اس دھماکے میں خاصہ دار اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

















