’ہم برطانوی ہیں اور مسلمان ہیں‘

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی نژاد برطانوی مسلمانوں کی طرف سے پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر ان دنوں ایک اشتہاری مہم کے ذریعے مقامی آبادی میں مغرب کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مہم کے لیے رقم برطانوی حکومت نے فراہم کی ہے۔
اس مہم میں برطانیہ میں مقیم مختلف پاکستانی نژاد برطانوی مسلمانوں کے ذریعے یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں۔ اشتہارات کے لیے جن پاکستانی مسلمانوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان اور کمیونٹیز کے وزیر صادق خان، لارڈ میئر برمنگھم چوہدری رشید اور اسکارف پہننے والی ہائی ویکمب کی پرائمری سکول ٹیچر سوبونیہ شفیق، برطانوی سرکاری فلاحی ادارے چیریٹی کمیشن کی اہلکار سعدیہ محمود جیسے افراد شامل ہیں۔
اشتہار میں پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان اپنا تعارف کراتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے اور برطانوی شہری ہے۔

اشتہار میں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ برطانوی شہریوں میں پاکستانی مسلمان بھی شامل ہیں جو وہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہیں تمام شخصی اور شہری آزادیاں حاصل ہیں۔
منتظمین کے مطابق مہم کے پیچھے مرکزی خیال یہی ہے کہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو بیک وقت اپنے مسلمان اور برطانوی شہری ہونے پر فخر ہے۔ یہ پیغامات اشتہارات کی صورت میں پاکستانی اخبارات میں بھی شائع ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور اور پشاور میں سڑکوں کے کنارے ان پیغامات پر مبنی بل بورڈ بھی لگائے جا رہے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے بقول ملک میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی مہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی تشہیر مغرب کے بارے میں رائے عامہ کو بہتر بنانے میں کس حد تک مددگار ہوسکتی ہے۔
سماجی اور معاشی ماہر اور تجزیہ کار اسد سعید کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں دائیں بازو کا پروپیگنڈہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور وہ اسے اور انداز سے بھی دیکھتا ہے۔ اسکی بنیاد یہ نہیں کہ برطانیہ میں مسلمان کس طرح سے رہتے ہیں اور انہیں کس قسم کے حقوق حاصل ہیں بلکہ اس پر ہے کہ برطانیہ اور مغربی ملکوں کی خارجہ پالیسی باقی ملکوں میں مسلمانوں کو کس طرح سے ٹارگٹ کرتی ہیں۔‘
اشتہاری مہم کا ایک مقصد برطانیہ کے خلاف انتہاپسندی کو روکنا اور مقامی آبادی میں مغرب کے بارے میں تاثر کو بہتر بنانا ہے۔ سیاسی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے اعتبار سے یہ بہت چھوٹی کوشش ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'یہ مہم اس مسئلے کے صرف ایک پہلو کا احاطہ کرتی ہے جبکہ اس کے علاوہ اور بھی اس مسئلے کے پہلو ہیں اور جب تک تمام پہلوؤں سے کوئی مثبت پیغام نہیں آئے گا تو جو سوچ ہے اس میں کوئی بنیادی تبدیلی پیدا نہیں ہوگی۔‘
ان کے بقول برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے بارے میں ایک عام پاکستانی کی سوچ کا زیادہ انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ میڈیا میں ان پیغامات کے علاوہ وہاں سے خبریں کیا آرہی ہیں اور برطانیہ سے جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ وہاں کے بارے میں کیا تاثر دیتے ہیں۔ مہم کے تحت اسلام آباد، پشاور اور میرپور میں مذاکروں اور کانفرنسوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق بنیادی طور پر یہ پائلٹ پروجیکٹ ہے اور اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو اسی طرح کی تشہیری مہم انڈونیشیاء، مصر اور یمن میں بھی چلائی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل برطانیہ میں مقیم پاکستانی شہریوں نے بھی ’یہ ہم نہیں‘ کے عنوان سے تشہیری اور دستخطی مہم چلائی تھی جس میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ مسلمانوں اور ان کے مذہب کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔





















