’متاثرین کی آڑ میں طالبان سندھ آ رہے ہیں‘

متاثرین مالاکنڈ فوجی آپریشن
،تصویر کا کیپشنمتاثرین کی بڑی تعداد نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے تاہم بعض متاثرین ملک کے دوسرے علاقوں کا بھی رخ کر رہے ہیں۔
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاڑکانہ

سندھ میں مالاکنڈ فوجی آپریشن کے متاثرہ پشتونوں کی آمد کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔ ہڑتال کی کال سندھی قوم پرست جماعت جیے سندھ قومی محاذ یا جسقم نے دی تھی۔ ہڑتال کے دوران سندہ کے مختلف شہروں میں درجنوں گاڑیاں نذر آتش کی گئیں۔ بعض شہروں میں ہوائی فائرنگ اور کریکروں کے دھماکے بھی کیے گئے۔

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں اہم کاروباری مراکز بند رہے جبکہ نسیم نگر چوک پر نامعلوم افراد نے ایک سرکاری جیپ کو نذرآتش کردیا۔ ٹنڈو جام میں ہڑتال کے دوران ایک کوسٹر اور کار کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ جبکہ ساحلی شہروں ٹھٹہ اور بدین کے اضلاع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عام ہڑتال کی گئی۔

سکھر میں جزوی ہڑتال رہی اور اہم کاروباری مراکز کھلے رہے ہیں۔ جبکہ بالائی سندھ کے اہم ضلعی شہروں جیکب آباد، شکارپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، قمبر، شہداد کوٹ اور کشمور کندھ کوٹ میں شٹر بند ہڑتال رہی۔

لاڑکانہ اور رتوڈیروں میں کریکروں کے دو سو دھماکے کیے گئے۔ کندھ کوٹ میں ضلعی بار کے وکلاء نے سندھ میں متاثرین کی آمد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب دادو، سیہون اور جامشورو میں بھی جسقم کی کال پر ہرتال کی گئی۔ جبکہ خیرپور، نوشہرو فیروز، نوابشاہ، سانگھڑ اور میرپور خاص میں بھی عام ہرتال کی گئی۔ میرپور خاص میں جسقم کے مرکزی کلچرل سیکرٹری نجف لغاری سمیت پچیس جسقم کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

سندھ میں مالاکنڈ متاثرین کے لیے کیمپوں کا قیام ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی جسقم کی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے وفاقی اور صوبائی وزراء اور سینیٹرز نے بھی مالاکنڈ متاثرین کی سندھ آمد کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت میں پیپلز پارٹی کی ایک اور اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین مالاکنڈ کو صوبے میں آنے سے نہ روکا جائے اور یہ کہ وہ ان متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے خود عارضی کیمپ قائم کری گی۔

جیے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہڑتال کےدوران پولیس اور رینجرز نے ان کے درجنوں کارکنوں پر تشدد کیا اور سینکڑوں کارکنوں کو صوبے کے مختلف شہروں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بشیر قریشی کا موقف ہے کہ مالاکنڈ سے سندھ میں آنے والے فوجی آپریشن کے متاثرین نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے طالبان ہیں جنہوں نے داڑھیاں منڈھوا کر بھیس بدل لیا ہے اور فرار ہوکر سندھ پہنچ رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ اپنا مرکز سرحد سے سندھ منتقل کر رہے ہیں۔

بشیر قریشی نے کہا ہے کہ پچاس لاکھ پشتون پہلے ہی سندھ میں آباد ہیں اور دوسرے لاکھوں پشتون آباد ہوجائیں گے تو سندھی اپنی دھرتی پر اقلیت میں بدل جائیں گے۔

جسقم چیئرمین نے کہا: ’کامیاب ہڑتال کے ذریعے سندھی قوم نے غیر سندھیوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کردیا ہے اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو سندھی ووٹرز کے ووٹوں کی مزید توہین نہیں کرنے دیں گے۔ یہ ہڑتال جدوجہد کی شروعات ہے اور مزید احتجاج جاری رکھا جائے گا‘۔

حکومت سندھ نے مالاکنڈ سے نقل مکانی کرنے والے پشتونوں کے لیے پنجاب کے بعد آنے والے پہلے ضلع کشمور میں سنیچر کے روز سے کیمپ قائم کر دیے ہیں۔

کشمور کے ضلعی رابطہ افسر سید عابد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عارضی طور پر چار سو خاندانوں کی رہائش کے لیے کشمور میں ایک کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں متاثرین مالاکنڈ کےلیے پینے کے صاف پانی، بجلی اور پنکھوں کے ساتھ ساتھ خوراک اور تحفظ کا بھی انتظام کیا گیاہے۔

ضلعی رابطہ افسر کے مطابق کشمور میں مالاکنڈ اور سوات سے آنے والی تمام گاڑیوں کو نہیں روکا جائے گا بلکہ صرف ان لوگوں کو کیمپ میں رہائش اور خوراک فراہم کی جائے گی جو اپنے آپ کو رجسٹر کروائیں گے۔