پشاور، ڈیرہ: سرکاری، نجی سکول بند

پشاور میں ایک ماہ کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی
،تصویر کا کیپشنپشاور میں ایک ماہ کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

جمعرات کے روز صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دو بم دھماکوں اور دو خودکش حملوں کے بعد پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی سخت کردی ہے اور سرکاری سکولوں کے بعد اب نجی تعلیمی اداروں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ ضلع پشاور میں ایک ماہ کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش اور کالے شیشے کے گاڑیوں پر پابندی ہوگی۔

صوبہ سرحد کی حکومت نےگزشتہ روز پشاور میں بم دھماکوں کے بعد پشاور کے تمام نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ایک بیان کے مطابق صوبہ سرحد کے تمام نجی سکولوں کو گرمیوں کی تعطیلات کے لیے فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

بیان میں واضح کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کو پہلے ہی سے بند تھے۔ لیکن دوسری طرف پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے خطرے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔

پولیس کا کہا ہے کہ گزشتہ روز پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں میں ہونے والے دو بم دھماکوں اور دو مبینہ خودکش حملوں کے بعد شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس افسر گوہر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر پولیس کے ناکوں میں اضافہ کردیاگیا ہے۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں پولیس نے گشت شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ شہر اور بازاروں رش کم پڑگیا ہے۔

ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس افسر سعید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں حالت کشیدہ ہے۔ شہر میں فوج اور پولیس نے مشترکہ گشت شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں میں پولیس اور ایف سی نے ناکے لگائے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلے سے بھی خوف تھا اب گزشتہ روز کے دھماکے کے بعد خوف و ہراس میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بازار میں زیادہ تر دوکانیں بند ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے دو بم دھماکوں اور دو مبینہ خودکش حملوں میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکوں کی وجہ سے درجنوں دکانوں، مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا۔

پشاور کے ڈسٹرک کوآرڈینیٹر آفیسر محمد انیس کے مطابق شہر میں بم دھماکے اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر نیا سکیورٹی پلان تشکیل دیدیاگیا ہے۔محمد انیس کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کے دھماکے کے بعد شہر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور شہر میں داخل ہونے والے کالے شیشے کے گاڑی پر پابندی لگائی ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت لائسنس یافتہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔

دوسری طرف گزشتہ روز بم دھمکوں اور خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازے پشاور کے مختلف علاقوں میں ادا کی گئی ہے۔