’ہم طالبان کے پاس ہیں‘

طلبا
،تصویر کا کیپشنگزشتہ روز ستر سے زیادہ طلبا اور عملے کے افراد بازیاب کرا لیے گئے تھے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’چاچا ہم طالبان کے پاس ہیں اور طالبان نے ہمیں کہا ہے کہ وہ دو روز میں ہمیں چھوڑ دیں گے اور پھر ٹیلیفون منقطع ہو گیا اور اب تک پھر ٹیلیفون بند ہے۔‘

یہ الفاظ رزمک کالج کے ایک لاپتہ طالبعلم مہران کے چچا امان اللہ کے ہیں۔ امان اللہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے بھتیجے نے اغواء ہونے کے بعد نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کیا تھا اور کہا کہ وہ خیریت سے ہے اور اس وقت وہ ایک ٹیلیفون بوتھ یا پبلک کال آفس سے بات کر رہا ہے ۔

امان اللہ خان نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس علاقے میں ہیں بس اتنا ہی بتایا ہے کہ وہ کل اڑتالیس طالبعلم اور دو اساتذہ ہیں اور سب طالبان کے پاس ہیں۔

رزمک کالج کے ڈائریکٹر جاوید عالم نے بتایا کہ کچھ والدین کو ٹیلیفون موصول ہوئے ہیں اور کیڈٹس مختصر بات کرکے یہی کہتے ہیں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک بچے کے نانا نے انہیں بتایا کہ ان کے نواسے نے اپنی ماں اور باپ سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ وہ سب اکٹھے ہیں اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔

گزشہ روز بازیاب ہونے والے ایک طالبعلم نے بھی بتایا تھا کہ انھیں طالبان نے اغوا کیا تھا اور طالبان ان سے کہہ رہے تھے کہ وہ انھیں بیت اللہ محسود سے ملوانے لے جائیں گے اور وہ ادھر کا ماحول دیکھیں کہ کیسا ہے اور پھر انھیں چھوڑ دیا جائے گا۔

لاپتہ طلبا کے والدین نے انتظامیہ کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متعلقہ حکام مختلف باتیں کر رہے ہیں۔

صوبہ سرحد کے شہر لکی مروت سے تعلق رکھنے والے امان اللہ خان نے کہاکہ کمشنر، ضلعی رابطہ افسر، پولیس حکام اور دیگر اہلکاروں میں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ کہتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ وہ ایک دن میں آجائیں گے اور دوسرے کہتے ہیں کہ ان کے آنے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں۔

کیڈٹ کالج رزمک کے ڈائریکٹر جاوید عالم نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والے طلبا میں ساتویں جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک کے بچے شامل ہیں۔

آٹھویں جماعت کے طالبعلم بلال احمد کے والد حمیداللہ جان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں کچھ طلبا نے اپنے والدین سے رابطہ کیا تھا لیکن ان سے ان کے بیٹے نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

ضلعی رابطہ افسر نے آج ان لاپتہ طلبا کے والدین سے ملاقات کی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ جرگہ بیٹھا ہے اور وہ کوششیں کر رہے ہیں۔

حمید اللہ جان نے انتظامیہ کے افسران کے رویے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’ڈی سی او کہتا ہے کہ اسے کچھ علم نہیں ہے اور وہ ( ڈی سی او) بہت جارحانہ طریقے سے باتیں کر رہے تھے۔‘

ان سے جب پوچھا کہ کیا وہ خود اپنے طور پر بھی کسی سے رابطہ کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ کس سے رابطہ کریں گے انھیں تو علاقے کا کچھ علم نہیں ہے اور وہاں تو حکومت کی رٹ ہی نہیں ہے۔

حمیداللہ جان کے مطابق انھیں تو ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا کہ سب لڑکوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور آئی ایس پی آر نے بھی یہی کہا ہے لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ لگ بھگ پچاس طالبعلم لاپتہ ہیں۔

اس بارے میں بنوں کے کمشنرصفدر عباس اور ضلعی رابطہ افسر کامران زیب سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن یہی بتایا گیا ہے کہ وہ اعلٰی سطح کے اجلاس میں بیٹھے ہیں اور وہاں ان سے رابطہ نہیں ہو سکتا۔

اس ساری کارروائی کے دوران اغوا ہونے والے پھر بازیاب ہونے والے اور اب لاپتہ طالبعلموں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہی سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی طور پر کہا گیا کہ کل پانچ سو طالبعلم لاپتہ ہیں پھر کہا گیا کہ کوئی پندرہ سے بیس طالبعلم ہیں۔ اسی طرح بازیاب ہونے والے طلبا کی تعداد اور پھر لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اس بارے میں کیڈٹ کالج رزمک کے ڈائریکٹر سٹڈیز جاوید عالم سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو انھوں نے بتایا کہ جب قافلہ کالج گیٹ سے روانہ ہوا تو ستائیس گاڑیوں میں دو سو اسی طلبا کے علاوہ کالج کا عملہ اور عملے کے خاندان کے افراد جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔

اس واقعہ کے وقت کچھ گاڑیاں گزر گئی تھیں اور کچھ گاڑیاں پکڑی گئی ہیں اور انھیں ابتدائی اطلاع یہی موصول ہوئی کہ صرف چار گاڑیاں پکڑی گئی ہیں جن میں سے دو واپس آ گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ نے یہی اندازہ لگایا کہ دو گاڑیوں میں تیس کے لگ بھگ طالبعلم ہی آسکتے ہیں لیکن بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ زیادہ گاڑیاں پکڑی گئی ہیں جن کی تعداد سات سے آٹھ بتائی گئی تھی اور اتنی گاڑیوں میں طلبا کی تعداد زیادہ تھی۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز ستر سے زیادہ طلبا اور عملے کے افراد بازیاب ہو گئے ہیں اور اس وقت پینتالیس کیڈٹس اور دو اساتذہ لاپتہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ معمول کے مطابق کالج کی چھٹیاں گیارہ جون سے اکیس جون تک ہوتی ہیں لیکن کالج انتظامیہ کو اوپر سے احکامات موصول ہوئے تھے کہ کالج فوری طور پر بند کر دیا جائے تو انھوں نے کالج بند کر دیا تھا۔

طلبا کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جو انتظامات عام طور پر کیے جاتے ہیں وہی انتظامات کیے گئے تھے کوئی غیر معمولی اقدامات نہیں تھے۔