خودکش حملہ، پولیس اہلکار ہلاک

زخمی پولیس اہلکار
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور پھر بم حملہ کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صوبہ سرحدکے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر ہونے والے دو بم حملوں میں کم سے کم ایک پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعات جمعرات کی شب پشاور کے علاقے رنگ روڈ میں فقیر آباد تھانہ کے سامنے پیش آئے۔

پشاور پولیس کے ایک اعلی اہلکار محمد اعجاز نے صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے تھانے کے سامنے پولیس موبائل پر دستی بم سے حملہ کیا تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دھماکے کے بعد جب وہاں کئی پولیس اہلکار اور عام افراد جمع ہوئے تو اس دوران ایک خودکش حملہ آور نے پولیس کی دو اور موبائل گاڑیوں کو نشانہ بنایا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں آٹھ پولیس اہلکار اور پانچ عام شہری شامل ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہپستال منتقل کر دیا گیا۔ بعض ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین بتائی ہے تاہم سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ پشاور میں تین دنوں کے دوران ہونے والے دو دھماکوں میں حملہ آوروں نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ منگل کو پشاور کے پرل کانٹینٹل ہوٹل پر ٹرک بم حملے سے پہلے حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور پھر دھماکہ کیا جبکہ پولیس اہلکاروں پر ہونے حالیہ حملوں میں بھی تقریباً وہی طریقہ کار اختیار کیا گیا جس میں جانی نقصانات کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

پشاور میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران کوئی دس سے زائد دھماکے ہوچکے ہیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعرات کو نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں بھی صوبائی وزیر جیل خانہ جات میاں نثارگل کا کاخیل کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں صوبائی وزیر زخمی ہوئے تھےجبکہ ان کے تین محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔