دیر میں بارہ شدت پسند ہلاک

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام تیمرہ گرہ، ضلع دیر
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ضلع دیر میں جاری فوجی کارروائی سے متاثرہ علاقوں میں ’سرچ آپریشن‘ کے دوران گزشتہ تین روز کے دوران بارہ مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ سوات اور دیر میں سیکیورٹی فوسرز کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
ان میں آٹھ شدت پسندوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔
ان شدت پسندوں کو ہفتے کی شام ضلع دیر کے صدر مقام تیمرگرہ صحافیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس موقع پر دیر سکاؤٹس کے کرنل اختر نے صحافیوں کو بتایا کہ ان افراد کو ضلع دیر کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے اور ابتدائی تفتیش کے دوران ان افراد کا فوج کے خلاف کارروائی میں شامل ہونا ثابت ہوا ہے۔
واضح رہے کہ دیر کی تحصیل میدان اور چکدرہ میں پاکستانی فوج چھبیس اپریل سے شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی میں مصروف ہے جسے آپریشن راہ راست کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تیمر گرہ سے متصل تحصیل میدان میں اس فوجی کارروائی میں چار سو سے زائد شدت پسند جبکہ نو فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرنل اختر کے مطابق گرفتار شدہ شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، ضلع دیر کے حساس مقامات کے نقشے اور بم بنانے کے طریقہ کار وغیر برآمد ہوئے ہیں۔
ان مبینہ جنجگوؤں سے تفتیش کرنے والے فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے دیر کے مختلف علاقوں سے شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی بعض کالعدم تنظیموں کے ارکان بھی شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیر میں جاری فوجی آپریشن جسے ’تھنڈر ون‘ کا نام دیا گیا ہے، کے انچارج بریگیڈیئر عمل زاد کے مطابق ان شدت پسندوں کے سوات، باجوڑ اور افغانستان کے جنگجوؤں سے روابط ہیں اور ان علاقوں کے عین درمیان میں واقع ضلع دیر کو یہ شدت پسندگزر گاہ اور روپوش ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
بریگیڈئیر عمل زاد کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسند سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ شہر میں مختلف جرائم کی وارداتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔
آپریشن تھنڈر ون گو کے ابھی ختم نہیں ہوا لیکن سیکیورٹی فورسز نے تحصیل میدان کے ایک بڑے علاقے کو ان سے خالی کروانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد ان شدت پسندوں کے ضلع کے مختلف علاقوں میں روپوش ہو کر چھاپہ مار کارروائیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔





















