قوم پرستوں کی اپیل پر سندھ میں ہڑتال

ہڑتال
،تصویر کا کیپشناندرونِ سندھ متعدد شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد سندھ

سندھی قوم پرست رہنماء بشیر قریشی پر قاتلانہ حملے کے خلاف جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے دوروزہ ہڑتال کی اپیل پر سندھ کے متعدد شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

بشیر قریشی کی گاڑی پر جمعہ کو کراچی میں حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے ایک ساتھی اور جسقم ٹھٹھہ کے ضلعی صدر مشتاق خاصخیلی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جسقم کارکنان کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

جسقم نے مشتاق خاص خیلی کی ہلاکت پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

سینیچر کو ہڑتال کی اپیل پر حیدرآباد کے تمام کاروباری مراکز بند رہے ہیں جبکہ کراچی کی سندھی اور بلوچ آبادیوں میں بھی دکانیں بند کی گئی ہیں۔حیدرآباد میں پھلیلی اور گاڑی کھاتہ کے علاقوں میں پولیس اور جسقم کے کارکنان کے درمیاں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

سندھ کے اہم شہروں سکھر، نوابشاہ، بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص، عمرکوٹ، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور،گھوٹکی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں تمام کاروباری مراکز صبح سے بند ہیں جبکہ نوشہرو فیروز ضلع کے شہر محراب پور میں جسقم کارکنان اور دکانداروں کے درمیاں ہڑتال کے معاملے پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کی گئی ہے اور گولیاں لگنے سے تین دکاندار زخمی ہوئے ہیں۔

جسقم کے ایک رہنماء آکاش ملاح کا کہنا ہے کہ سندھ بھر سے پولیس نے ان کے درجنوں کارکنان گرفتار کیے ہیں۔پولیس نے یہ گرفتاریاں بدین،حیدرآباد،سکھر اور نوابشاہ سے کی ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں بشیر قریشی پر قاتلانہ حملے کے دوران جاں بحق ہونے والے جسقم رہنماء مشتاق خاصخیلی کو ان کے آبائی شہر ٹھٹھہ کے تاریخی قبرستان مکلی میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ان کی نماز جنازہ میں متعدد قوم پرست رہنماؤں نے شرکت کی۔

کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران قوم پرست رہنماؤں کے جلوس پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے دو کارکن ہلاک بھی ہوئے تھے۔ ان کارکنوں کے قتل کا مقدمہ عدالتی حکم کے بعد سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔