آئین کا آرٹیکل چھ کیا ہے؟

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت آئین کو توڑنے اور ایسا کرنے والے کی مدد کرنے والے تمام افراد ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کے اس جرم میں برابر کے شریک تصور کیے جائیں گے، جن کی سزا پارلیمنٹ نے عمر قید یا موت تجویز کی ہے۔
آئین کی شق چھ پر عمل کے لیے پارلیمنٹ نے جو قانون منظور کر رکھا ہے اس کے مطابق سنگین بغاوت کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے۔
آئینی ماہرین اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ ’سنگین بغاوت‘ کے مقدمے کی تیاری اور اس کی پیروی کے لیے مطلوبہ قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ’سنگین بغاوت کی سزا کے قانون‘ کے ذریعے اس کا مقدمہ درج کیے جانے کی تمام تفصیلات طے کر دی ہیں۔
سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاہد کے مطابق اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق چھ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمے یا شکایت درج کروانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت ہی کو حاصل ہے۔
’اس بنا پر چیف جسٹس صاحب کا یہ کہنا کہ عدالت کسی کے خلاف اس آرٹیکل کے تحت کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی، بالکل درست ہے۔‘
’اس ایکٹ پر عمل کرنے میں صرف ایک سقم باقی ہے اور وہ یہ کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے ایک افسر کو یہ شکایت یا مقدمہ درج کروانے کے لیےنامزد کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند منٹ کا کام ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی دوسرے افسر کو شکایت کنندہ مقرر کر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئین میں آرٹیکل چھ کی تین ضمنی دفعات ہیں۔
(1) کوئی فرد جو تنسیخ کرے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کو کوشش یا سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یا کسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے، وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہوگا۔
(2) ایسا فرد جو مدد یا تعاون کرے اس اقدام کی جو شق نمبر ایک میں درج ہے، وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔
(3) مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کرے گی۔
چودہ اگست انیس سو تہتر کو دستور کی منظوری کے بعد اس پر عمل کے لیے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد چھبیس ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دیے تھے۔
آئین کی اس شق پر عمل کرنے کے لیے بنائے گئے ’سنگین بغاوت‘ کی سزا کا قانون انیس سو تہترکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔
(1) اس قانون کا نام ’سنگین بغاوت کی سزا کا قانون انیس سو تہتر‘ ہو گا۔
(2) ایسا فرد جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہوگی۔ یہاں پر آئین سے مراد تئیس مارچ انیس سو چھپن کے بعد سے لاگو ہونے والے تمام آئین ہیں۔
(3) کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکایت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کے لیے اختیار دیا ہو۔
جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق قانون کی یہ شق اس سزا پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے ذریعے حکومت کو اس افسر کی نامزدگی پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
جسٹس ناصر اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکایت نہیں کر سکتا۔
’کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی شکایت کر سکتا ہے لیکن وہ یہ شکایت عدالت میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے پاس جمع کروائےگا جو اپنے نامزد کردہ فرد کے ذریعے اس شکایت کو عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔‘
ناصر اسلم نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ حکومت کی جانب سے اس شہری کی شکایت کو عدالت نہ لے جانے کے خلاف متعلقہ شہری یہ معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے۔
’جیسا کہ ہمارے ملک میں اکثر ہوتا ہے کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے کتراتی ہے اس صورت میں سائل عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور وہ ایف آئی آر عدالتی مداخلت کے بعد درج کرلی جاتی ہے۔ سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے۔‘
لیکن جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد نے تسلیم کیا کہ اس صورت میں بھی سپریم کورٹ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا بلکہ یہ درخواست بھی ابتدائی طور پر سیشن عدالت کے سامنے درج کی جائے گی جبکہ اپیل کے عمل میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔





















