’تین نومبر کے اقدامات غیر آئینی، پی سی او جج فارغ‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں تین نومبر کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں تعینات ہونے والے پی سی او ججز اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے حوالے سے آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے تین نومبر کو لگائی گئی ایمرجنسی کو ماورائے آئین قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد جمعہ کی دوپہر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور اس کا اعلان جمعہ کو شام گئے کیا گیا۔
چودہ ججز کے لارجر بینچ کے متفقہ فیصلے میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی معزولی، جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بطور چیف جسٹس تقرری، تین نومبر کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے تقرر اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کو بھی غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے جنرل(ر) مشرف کے ایمرجنسی سے متعلق اقدامات کو آئینی تحفظ دینے والے ٹکا اقبال کیس کے فیصلے کو بھی غیر موثر قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی جانب سے تین نومبر سنہ 2007 سے لے کر بائیس مارچ سنہ 2009 کو ان کی ریٹائرمنٹ تک کی گئی تمام تقریاں غیر آئینی قرار دے دی ہیں۔ تاہم فیصلے کے مطابق اس فیصلے سے جسٹس ڈوگر کے انتظامی اور مالیاتی معاملات اور صدر کا حلف متاثر نہیں ہوں گے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین نومبر کو چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے صدر اور وزیراعظم سے ایسے کوئی اقدامات نہ کرنے کو کہا تھا جس سے عدالت کی آزادی متاثر ہو اور اعلٰی عدالتوں کے ججوں کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے کو کہا گیا تھا، اس لیے وہ جج صاحبان جو تین نومبر سے قبل بھی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج تھے اور انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ان کے کیس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیے گئے ہیں جبکہ تین نومبر کے بعد تعینات ہونے والے تمام ججوں کی تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے سو سے زائد جج متاثر ہوئے ہیں۔ فیصلے سے سپریم کورٹ کے بارہ جج متاثر ہوئے ہیں جن میں سے دس کی تعیناتی کالعدم قرار دی گئی ہے جبکہ دو ججوں جسٹس فقیر محمد کھوکر اور جسٹس جاوید بٹر کا کیس آئین کے آرٹیکل دو سو نو کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے تینتالیس، سندھ ہائی کورٹ کے چھبیس، بلوچستان ہائی کورٹ کے چھ، پشاور ہائی کورٹ کے نو اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے نو جج اس فیصلے کے بعد فارغ ہو گئے ہیں جبکہ ان ججوں کے سٹاف کو سرپلس پول میں بھیج دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت ججوں کی تعداد ججز ایکٹ کے تحت سترہ ہی رہے گی۔
ایوانِ صدر کی جانب سے ایک بیان میں ایمرجنسی کے نفاد کو غیر آئینی قرار دیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ جمہوری اصولوں کی فتح اور آمریت کی نفی ہے‘۔ جمعہ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے کبھی بھی جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کی حمایت نہیں کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ’ہم غیر آئینی اقدامات کی حمایت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمیں اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہے کہ ماضی میں آئین سے کیوں انحراف کیا گیا۔‘
جب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ پرویز مشرف نے تین نومبر کے بعد کتنے آرڈیننس جاری کیے ہیں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سینتیس آرڈیننس جاری کیے گئے تھے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت واضح موقف کے ساتھ سامنے آئے اور تحریری طور پر آگاہ کرے کہ وہ کتنے آرڈیننس رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ ان میں سے کچھ آرڈیننس ملکی سالمیت سے متعلق ہیں۔
جسٹس خلیل رمدے نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک پارلیمنٹ نے ان آرڈیننسز کا جائزہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پارلیمنٹ کے نگران نہیں ہیں اور ہمیں اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے ہیں‘۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ان آرڈیننسز کے حوالے سے ’ہمیں بھی تو معلوم ہونا چاہیئے کہ پارلیمنٹ کو کیا ذمہ داری دی گئی ہے۔‘






















