سپریم کورٹ کے باہر انتظار کی گھڑیاں

- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں تین نومبر کے بعد اعلٰی عدالتوں میں تعینات ہونے والے پی سی او ججوں اور سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے حوالے سے آئینی درخواستوں پر فیصلہ سپریم کورٹ کے دیے گئے مقررہ وقت سے لگ بھگ پانچ گھنٹے بعد سنایا گیا۔
سپریم کورٹ کی چودہ رکنی بینچ نے دوپہر کو دلائل ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کر کے ساڑھے تین بجے فیصلہ سنانا تھا۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے تین بجے ہی سے سپریم کورٹ کے احاطے میں ڈیرے ڈال دیے۔ کیمرے نصب تھے اور وقفے وقفے سے سٹوڈیو سے فون آنے پر صحافی کیمرے کے سامنے کھڑے ہوتے اور وکلاء کے دلائل مختصراً بیان کر کے صرف یہ کہہ دیتے کہ ابھی تک بینچ کورٹ روم نمبر ایک میں نہیں آئے۔
ایک وقت وہ آیا جب ٹی وی چینلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ اس بات پر ٹھن گئی کے کس چینل نے یہ ٹِکر چلایا ہے کہ جج صاحبان کورٹ روم میں آ گئے ہیں اور فیصلہ کچھ دیر میں سنا دیا جائے گا۔ تاہم کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا کہ غلطی دور کروا دی جائے۔
ایک طرف اگر میڈیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں تھے تو دوسری طرف شاہراہِ دستور پر سڑک کے کنارے لمبی قطار حکومتی گاڑیوں کی تھی۔ یہ گاڑیاں پرائم منسٹر سکریٹیریٹ کے سامنے کھڑی تھیں جہاں ایک اعلٰی سطحی اجلاس جاری تھا۔
اگر صحافی سپریم کورٹ کے فیصلے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے تو سپریم کورٹ کی سکیورٹی پر تعینات اہلکار بھی بے چین تھے لیکن وجہ کچھ اور تھی۔ ایک کا کہنا تھا کہ جلد فیصلہ آئے تاکہ یہ ڈیوٹی ختم ہو۔
آخر کار تقریباً آٹھ بج کر انیس منٹ پر ٹی چینل کے صحافی بھاگے آئے اور اپنے اپنے کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر بینچ کا فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔ لیکن اس وقت بھی جن چینلوں کے صحافی باہر نہیں آئے وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ آیا فیصلہ آ گیا ہے یا ذرائع پر رپورٹ کی جا رہی ہے۔
اس کنفیوژن کی ایک وجہ یہ تھی کہ کورٹ روم کے اندر صحافی ایک دوسرے کو روک رہے تھے کہ ابھی پورا فیصلہ سن لو اور پھر رپورٹ کرو لیکن کون سا چینل سب سے پہلے خبر دیتا ہے کی دوڑ میں چند چینل باہر نکل آئے۔
کورٹ روم سے وکلاء کے باہر آتے ہی نعرے بازی شروع ہوگئی۔ وکلاء کا ایک ریلا باہر نکلا اور سیڑھیوں پر کیمروں کے لیے پرجوش نعرے لگائے جن میں ’مشرف کو پھانسی دو‘، چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘ اور ’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘ شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکلاء کا کہنا تھا کہ اگلا قدم سابق صدر مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ہے۔ اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر علی احمد کرد کو کندھوں پر اٹھا لیا اور نعرے بازی دوبارہ شروع ہو گئی۔





















