’مشرف کا مقدمہ سادہ قرارداد سے ممکن‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
<span><paragraph role="introduction"><span>اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے سادہ اکثریت سے پاس ہونے والی قراردار کے بعد سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔</span></paragraph><paragraph><span>پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی بطور سپریم کورٹ کے جج کی حلف برداری کی تقریب کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق صدر کے خلاف ٹرائل کے بارے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سادہ اکثریت سے قرارداد کی منطوری ضروری ہے۔</span></paragraph><paragraph><span>ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ جن ججوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا اُن کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔ </span></paragraph><paragraph><span>سپریم کورٹ کے سینیئر جج جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔</span></paragraph><paragraph><span>اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس ایم جاوید بُٹر کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے معاملہ سننے سے قبل یا اس کے دوران کوئی جج اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے تو پھر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔</span></paragraph><paragraph><span>سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب تک کسی جج کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے اُس وقت تک وہ اپنے عہدے پر کام کرسکتے ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>دوسری طرف محتلف ہائی کورٹس نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کے لیے درخواستیں وزارت قانون کو بھیجنا شروع کردی ہیں۔ اکتیس جولائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں سپریم کورٹ کے نو ججوں کو اُن کی متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج دیا ہے۔ </span></paragraph><paragraph><span>جسٹس موسیٰ کے لغاری، جسٹس اعجاز یوسف، جسٹس حامد فاروق، جسٹس فرخ محمود، جسٹس قائم جان، جسٹس زوار حسین جعفری، جسٹس شیخ حاکم علی اور سردار محمد اسلم آئندہ چند روز میں اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے جبکہ جسٹس ضیاء پرویز اور جسٹس سخی بخاری سندھ ہائی کورٹ چلے گئے ہیں۔</span></paragraph> <pullOut title=""><paragraph>محتلف ہائی کورٹس نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کے لیے درخواستیں وزارت قانون کو بھیجنا شروع کردی ہیں۔ اکتیس جولائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں سپریم کورٹ کے نو ججوں کو اُن کی متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج دیا ہے۔</paragraph></pullOut> <paragraph><span>ان ججوں کے چیمبر سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے دیگر ججوں کو الاٹ کردیے گئے ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>اُدھر صدر آصف علی زرداری نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 76 ججوں کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔</span></paragraph><paragraph><span>ان ججوں میں سپریم کورٹ کے نو جج صاحبان شامل ہیں ان میں جسٹس محمد قائم جان، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس موسیٰ کے لغاری، جسٹس چوہدری اعجاز یوسف، جسٹس میاں حامد فروق، جسٹس زوار حسین جعفری، جسٹس فرخ محمود، جسٹس شیخ حاکم علی اور جسٹس سردار محمد اسلم شامل ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>پنجاب ہائی کورٹ کے 34 جج صاحبان کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے ان میں جسٹس ضبط الحسن، جسٹس ظفر اقبال چوہدری، جسٹس خواجہ فاررق سعید، جسٹس محمد اکرم قریشی، جسٹس خورشید انور بھنڈر، جسٹس مظہر حسین منہاس، جسٹس سیف الرحمن، جسٹس ایس علی حسن رضوی، جسٹس محمد اشرف بھٹی، جسٹس رانا زاہد محمود، جسٹس کاظم علی ملک، جسٹس حافظ طارق نسیم، جسٹس خلیل احمد، جسٹس ایم اے ظفر، جسٹس ملک سعید اعجاز، جسٹس سید شاہین مسعود رضوی، جسٹس علی اکبر قریشی، جسٹس محمد احسن بھون،جسٹس پرویز علی چاولہ، جسٹس حبیب اللہ شاکر، جسٹس نصیر احمد غازی،جسٹس عبدالستار گورائیہ، جسٹس سید احتشام قادر شاہ، جسٹس مسز جمیلہ جہاں نور اسلم، جسٹس محمود اختر خان، جسٹس جمشید رحمت اللہ، جسٹس پرویز عنایت ملک، جسٹس ارشد محمود، جسٹس عرفان قادر، جسٹس سید زوالفقار علی بخاری، جسٹس چوہدری نعیم مسعود، جسٹس انوار الحق پنوں، جسٹس شفقت خان عباسی اور جسٹس امتیاز رشید صدیقی شامل ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>سندھ ہائی کورٹ کے بیس ججوں کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے ان میں جسٹس بنیامین، جسٹس خالد علی قاضی، جسٹس سلمان انصاری، جسٹس عبدالرحمن فاروق، جسٹس عبدلرشید کلہوڑ، جسٹس ظفر احمد خان شیروانی، جسٹس سید محمود عالم رضوی، جسٹس مسز صوفیہ لطیف، جسٹس مقبول احمد اعوان ،جسٹس صفدر علی بھٹو، جسٹس محرم جی بلوچ، جسٹس ملک محمد عاقل، جسٹس سید شفقت علی شاہ، جسٹس محمد اقبال مہر، جسٹس خادم حسین شیخ، جسٹس محمد اسماعیل بھٹو ، جسٹس اختر شیراز میمن، جسٹس عامر رضا نقوی، جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس سلمان طالب الدین شامل ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>واضح رہے کہ جسٹس عبدالرشید کلہوڑ، جسٹس ظفر احمد خان شیروانی سندھ ہائی کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات تھے جسے غیر آئینی قرار دیے جانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اُن کی مدت ملازمت پوری ہونے سے پہلے ہی نوکریوں سے فارغ کردیا تھا۔</span></paragraph><paragraph><span>پشاور ہائی کورٹ کے چھ ججوں کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے ان میں جسٹس شاہ جی رحمان خان، جسٹس غلام محی الدین ملک، جسٹس ضیاء الدین خٹک، جسٹس سید مصدق حسین گیلانی، جسٹس سید یحی زاہد گیلانی اور جسٹس محمد اسلم خان شامل ہیں۔</span></paragraph><paragraph><span>اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام جو کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد عمل میں لایا گیا تھا اس میں کام کرنے والے سات ججوں کو کام کرنے سے روک دیا ہے ان میں جسٹس محمد منیر پراچہ، جسٹس سید قلب حسن، جسٹس راجہ سعید اکرم حان، جسٹس محمد ارشد تبریز ، جسٹس امجد اقبال قریشی، جسٹس محمد رمضان چوہدری اور جسٹس سید انتخاب حسین شاہ شامل ہیں۔ </span></paragraph><paragraph><span>صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم بلال خان کو لاہور ہائی کورٹ بھجنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔</span></paragraph></span>


















