عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم

عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنعوام کو مبارک باد دینی چاہیے جنہوں نے بے مثال جدوجہد کرکے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرایا: عمران خان
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مینگورہ

حکمراں جماعت پیپلز پارٹی سمیت اکثر سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے تین نومبر 2007ء کے جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جمہوری اصولوں کی کامیابی قرار دیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف گیلانی نے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے آمریت کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ عدالت عظمیٰ کا مختصر فیصلہ جمہوری اصولوں کی فتح ہے اور آمریت کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے، جس کا بھرپور خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری کے موقف کی تائید ہے۔

فرحت اللہ بابر نے یاد دلایا کہ 3 نومبر 2007ءکو ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایمرجنسی اور آمریت کو چیلنج کرنے کے لیے دبئی کا دورہ مختصر کر کے پاکستان واپس آئی تھیں۔

ترجمان نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے آمریت اور تین نومبر 2007ءکے اقدامات کو مسترد کیا جانا ان اصولوں کی فتح ہے، جن کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے جدوجہد کی اور اس کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو اور پارٹی کے لاتعداد کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ انہوں نے کہا چونکہ ابھی فیصلے کی تفصیلات کا انتظار ہے، اس لیے اس مرحلے پر تفصیل سے تبصرہ کرنا قبل از وقت ہے۔

ادھر حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جمہوریت اور قوم کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے جنرل پرویز مشرف قانونی طور پر بھی مجرم قرار پا گئے ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تمام اہل وطن، وکلاء، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جن کی بے مثال قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حقیقی عدلیہ بحال ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ آج کا دن جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کے لیے سنگ میل حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے قدم اٹھایا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے۔ ’ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے ایک ڈکٹیٹر کے اقدامات کو غیر آئینی غیر قانونی اور ماورائے عدالت قرار دیا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ ماضی میں عدالتیں آگے بڑھتی رہیں اور ملک کا بیڑہ غرق ہوا۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو مبارک باد دینی چاہیے جنہوں نے بے مثال جدوجہد کرکے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرایا۔