بیت اللہ ہلاکت، ابہام میں مزید اضافہ

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنماضی میں بھی بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر آئی تھی جو غلط ثابت ہوئی تھی
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے امیر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے خفیہ ایجنسیوں کی ایک چال قرار دیا ہے۔

تنظیم کے ایک اہم کمانڈر اور بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے بیت بیت اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبروں کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

تاہم اس دعویِ کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

<link type="page"><caption> شدت پسندوں کی ہلاکتیں اور میڈیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090807_mehsud_media_as.shtml" platform="highweb"/></link>

اس بیان سے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بارے میں ابہام میں مزید اضافہ ہوا ہے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی ہے۔ خود حکومت کہتی رہی ہے کہ اسے ساٹھ سے ستر فیصد یقین ہے کہ بیت اللہ محسود ہلاک ہوچکے ہیں لیکن وہ طالبان کی جانب سے تردید یا تصدیق کے منتظر ہیں۔

دوسری طرف امریکہ نے کہا ہے کہ اسے یقین ہوتا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج بیت اللہ محسود کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت کی حتمی تصدیق میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اپنے آپ کو بیت اللہ محسود کا خصوصی ترجمان کہلوانے والے حکیم اللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ’وہ کیسے بیت اللہ کے زندہ ہونے کو ثابت کریں گے؟‘ کہا کہ بیت اللہ محسود طالبان سربراہ ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن کی طرح جان بوجھ کر خاموش جنگ کی حکمت عملی کی وجہ سے پسِ پردہ ہیں۔

انہوں نے ہلاکت کی خبروں کو پاکستان اور امریکی خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی، ایم آئی اور سی آئی اے کی سازش قرار دیا تاکہ بیت اللہ محسود کو سامنے لاکر ختم کیا جاسکے۔ 'وہ خود آئندہ چند روز میں میڈیا سے بات کریں گے یا پھر ان کا ویڈیو پیغام جاری کر دیا جائے گا۔'

حکیم اللہ نے طالبان شوری کے اجلاس کی خبروں کی بھی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کسی اجلاس کی ضرورت ہی نہیں تھی تاہم انہوں نے ذرائع ابلاغ کے اس ساری خبر کے گرد گھومنے والے کردار پر تعحب کا اظہار کیا۔ ان کا سوال تھا کہ آخر میڈیا کو ہوا کیا تھا کہ وہ مکمل طور پر ایک غلط خبر کو اتنی ہوا دیتے رہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناس سے پہلے بھی لدھا سب ڈویژن میں بیت اللہ کے کئی ٹھکانے پر ڈرون حملہ ہوئے ہیں

تیس سالہ حکیم اللہ نے وضاحت کی کہ بیت اللہ محسود کی طعبیت ہی نہیں کہ وہ اپنے سسر کے گھر جائیں۔ لہذا ان کی ہلاکت کی خبر مکمل طور پر غلط ہے۔ 'وہ نہ زخمی ہیں اور نہ ہلاک ہوئے ہیں۔'

امریکی محتاط

دوسری طرف امریکہ نے کہا ہے کہ اسے یقین ہوتا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج بیت اللہ محسود کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان رابرٹ گبز کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت کی حتمی تصدیق میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

امریکی اور پاکستانی دونوں حکومتوں کے لیے بیت اللہ محسود ایک اہم ترین ٹارگٹ تھے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ بیت اللہ محسود کے القاعدہ کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات تھے اور پاکستان کے حالات کو مشکل بنانے میں ان کا کردار اہم ہے۔ اس سال پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر تیس سے زائد امریکی ڈرون حملے کیے جاچکے ہیں۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق اگرچہ ابھی وہ سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ بیت اللہ محسود مارے جاچکے ہیں تاہم ان خبروں کے درست ہونے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو یہ پاکستانی طالبان کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ملک کے انٹیلیجنس ذرائع نے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے تاہم زمینی شواہد کی بنیاد پر اس خبر کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے خفیہ ذرائع نے بیت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے تاہم مکمل ثبوت کے لیے زمینی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔‘

یاد رہے اس سے ایک سال پہلے بھی ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے دعوٰی کیا تھا کہ بیت اللہ محسود علالت کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں تاہم کچھ عرصے بعد یہ خبر غلط ثابت ہوئی تھی۔