بیت اللہ محسود کون؟

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود پانچ اگست سنہ 2009 کو ہونے والے امریکی میزائل حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یوں تو وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف سات سالوں سے جاری کارروائیوں کے دوران کئی مقامی طالبان کمانڈر سامنے آئے لیکن بیت اللہ محسود وہ واحد کمانڈر ہیں جنہیں وزیرستان سے باہر دوسرے قبائلی علاقوں میں بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔
اس وقت پوری دنیا بیت اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کے طور پر جانتی ہے اور جہاں حکومت ِ پاکستان نے بیت اللہ محسود سمیت وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کےگیارہ عسکریت پسند کمانڈروں کی گرفتاری میں معاونت پر پانچ کروڑ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا تھا وہیں امریکہ نے بھی بیت اللہ محسود کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی۔
تنتیس سالہ بیت اللہ محسود صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں کینٹ کے علاقے داؤد شاہ میں پیدا ہوئے۔ بیت اللہ محسود کا تعلق محسود قبائل کے ذیلی شاخ شوبی خیل سے تھا۔ ان کے والد مولانا محمد ہارون داؤد شاہ کے ایک چھوٹے مسجد میں پیش امام تھے اور مسجد کے قریب گاؤں والوں نے انہیں رہائش کے لیے ایک مکان دیا ہوا تھا۔ بیت اللہ کے خاندان والوں نے زیاد تر زندگی بنوں ہی میں گزاری۔
مولانا محمد ہارون کے چھ بیٹے تھے جن میں بیت اللہ سے چھوٹے یحییٰ خان محسود کو گزشتہ سال بنوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیاگیا تھا۔ ان میں سے بیت اللہ سے بڑے بھائی ظاہر شاہ اور چھوٹے محمد اسحاق ان کے گروپ کا حصہ ہیں۔ ان کے ایک بڑے بھائی ملک سے باہر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بیت اللہ کے والد مولانا محمد ہارون کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکے ہیں اور ان کی والدہ زندہ ہیں جو ان دنوں ان کے ساتھ جنوبی وزیرستان میں ہی رہائش پذیر تھیں۔
بیت اللہ محسود کی پہلی شادی بنوں میں ہوئی تھی۔ لیکن ان کی پہلی بیوی سے کسی قسم کی اولاد نہیں تھی اس لیے انہوں نے گزشتہ سال جنوبی وزیرستان کے ایک قبائلی سردار ملک اکرام الدین کی بیٹی سے دوسری شادی کی۔ ملک اکرم الدین ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں۔ یہی وہ ملک اکرم الدین ہیں جن کے گھر پر ہونے والے میزائل حملے میں بیت اللہ کی ہلاکت ہوئی ہے۔
بیت اللہ محسود نے ابتدائی دینی تعلیم بنوں کے علاقے داؤد شاہ کے پیپل مدرسے میں ہی حاصل کی۔اس کے بعد مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے ایک مدرسے میں داخلہ لیا۔ لیکن وہاں سے انہوں نے علم کے درجوں کو مکمل نہیں کیا اور واپس بنوں چلے گئے جہاں ایف ار بنوں کے علاقے ماتی ممن خیل میں انہوں نے کچھ عرصے تک ایک مسجد میں امامت کی۔
میرانشاہ میں طالب علمی کے دوران افعانستان کے طالبان سے ان کے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔ میرانشاہ بازار کے مغربی حصے میں جلاالدین حقانی کا اسلامی مدرسہ تو افعانستان کے طالبان کا مرکز تھا۔ بیت اللہ محسود کا بھی اس مدرسے میں آناجانا تھا۔ بیت اللہ محسود بعد میں طالبان تحریک میں شامل ہوگئے اور بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لیا اور فتح حاصل کی۔ اس کے بعد بیت اللہ مسلسل مختلف محاذوں پر طالبان کے ساتھ رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیت اللہ محسود طالبان کے شکست کے وقت افغانستان سے جنوبی وزیرستان آگئے اور وہاں آنے والے جنگجوؤں کو پناہ دی۔ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں فوجی کارروائی میں بیت اللہ محسود نمایاں رہے۔ فوجی قافلوں اور سکاؤٹس قلعوں پر حملوں میں سکیورٹی فورسز کو شدید نقصان پہنچایا۔ سکیورٹی فورسز نے سات فروری دو ہزار پانچ کو سرروغہ کے مقام پر ان سے امن معاہدہ کیا۔لیکن معاہدہ زیادہ دیر تک نہ رہا اور کچھ عرصے کے بعد ٹوٹ گیا۔ معاہدہ ٹوٹنے کے بعد انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک تنظیم کی بنیادہ ڈالی جو بعد میں تمام قبائلی علاقوں اور سرحد کے مختلف علاقوں میں تنظیم نے اپنا مقام بنا لیا۔
بیت اللہ محسود گزشتہ چار سال سے مقامی طالبان کی قیادت کر رہے تھے۔ اس دوران ان پر جہاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا وہیں خود بیت اللہ نے ملک میں ہونے والے زیادہ تر خودکش حملوں ، بم دھماکوں اور دہشتگردی کے کئی دیگر وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی۔




















