امریکہ اور محسود

بیت اللہ محسود(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن صرف بعض افراد کی ہلاکت کو مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا: امریکی حکام
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

امریکی حکام اپنے ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات سے اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان میں طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود گزشتہ بدھ کے روز امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی حکام آن دی ریکارڈ اس بات کی سو فیصد تصدیق نہیں کرنا چاہتے کہ بیت اللہ محسود ہلاک ہوگئے ہیں، تاہم یہاں واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ذرائع کے مطابق اس میں شک کی گنجائش اب نہیں رہی کہ بیت اللہ محسود مارے گئے ہیں۔

ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بیت اللہ محسود ذیابیطس کے مریض تھے اس لیے انہیں پیروں میں درد کی شکایت رہتی تھی اور جس وقت ان کو ڈرون کے ذریعے میزائیل کا نشانہ بنایا گیا اس وقت وہ اپنی بیوی سے پیروں کا مساج کرا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کا ڈرون حملہ نہایت معتبر اطلاعات کے بعد کیا گیا تھا جس میں حکام کو یہ بھی معلوم تھا کہ بیت اللہ محسود اپنی بیوی کے ساتھ سسر کے گھر میں چھت پر بیٹھے تھے۔

طالبان کمانڈر کی ہلاکت سے متعلق اب تک حکومت پاکستان اور طالبان کی طرف سے دعوے اور جوابی دعوے جاری ہیں۔ جمہ کے روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق بیت اللہ محسود ہلاک ہوچکے ہیں، لیکن سنیچر کے روز خود کو بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی کہنے والے حکیم اللہ محسود نے بی بی سی کے اسلام آباد کے نامہ نگار ہارون رشید کو بتایا کہ بیت اللہ محسود زندہ ہیں اور بہت جلد اپنا پیغام میڈیا کو دیں گے۔

اس دعوے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ بیت اللہ محسود مارے جا چکے ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو ثابت کریں۔

امریکی حکام نے تاہم بہت محتاط رویہ اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کے حالات میں فوری طور پر ہلاکت کی سو فیصد تصدیق نہیں ہوسکتی اور صرف انتظار سے ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

لیکن پینٹاگون کے اہلکاروں نے بدھ کی کارروائی کو شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بیت اللہ محسود ایک سفاک قاتل تھا جو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے علاوہ سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل میں ملوث تھا۔

امریکی حکام کے مطابق بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے پاکستانی عوام کا فائدہ ہوگا تاہم ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف لڑائی ایک لمبی لڑائی ہے اور صرف بعض افراد کی ہلاکت کو مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔