مہمند: امن کمیٹی کے دو رکن ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقےمہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نےطالبان مخالف امن کیمٹی کے ایک اہم رکن کے گھر پر حملہ کر کے کمیٹی کے دو کارکنوں کو ہلاک جبکہ ایک کو اغواء کر لیا ہے۔ مقامی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسلح افراد نے یکہ غنڈ تحصیل کے علاقے مچنی بنگلو میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے ایک اہم رکن اور قبائلی سردار ملک سلام کے مکان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں امن کمیٹی کے دو رکن ہلاک جبکہ ایک کو اغواء کرلیا گیا ہے۔ تاہم اس حملے میں قبائلی سردار ملک سلام محفوظ رہے۔
دریں اثناء تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے نائب امیر قاری شکیل نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کمیٹی کے ممبران طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اسی وجہ سے ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مہمند ایجنسی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امن کمیٹی کے پانچ اراکین کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں دو افراد کو گلہ کاٹ کر قتل گیا تھا۔ طالبان ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرچکے ہیں۔
دوسری طرف قبائلی علاقے اورکزئی اور سنٹرل کرم ایجنسی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا کہ جمعرات کی صبح گن شپ ہیلی کاپٹروں نے لوئر اورکزئی کے پہاڑی علاقے اوبلن میں مشتبہ شدت پسندوں کے مراکز پر بمباری کی جس میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
ادھر سنٹرل کرم کے علاقوں سپرکیٹ، میرانڈئی اور پورمیگی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں طالبان عدالتوں کے دو قاضی بھی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم سرکاری طورپر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















