عدالتی کارروائی رکوانے کی درخواست

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی عدالتی کارروائی رکوانے کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے۔
یہ درخواست ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور کی طرف سے انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی عدالت میں دائر کی گئی ہے۔
اس درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے بینظیر قتل کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپیشل انوسٹیگیشن گروپ کے سربراہ کی نگرانی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک یہ تحقیقاتی اس مقدمے میں اپنی تفتیش مکمل نہیں کرلیتی اُس وقت تک اس مقدمے پر عدالتی کارروائی روک دی جائے۔
یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جنہوں نے پولیس کے بقول اس واقعہ میں اعانت کرنے کا عدالت میں اعتراف بھی کیا ہے۔ عدالت نے اس ضمن میں ملزمان پر فرد جُرم بھی عائد کی ہوئی ہے۔
درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت پولیس کی طرف سے جو تحقیقات سامنے آئی ہیں اُن میں تمام پہلووں کا جائزہ نہیں لیا گیا اس لیے نئی تحقیقاتی ٹیم اُن تمام پہلوں کا جائزہ لے گی اور اس واقعہ میں اصل مجرموں کو سامنے لانے کی کوشش کرے گی۔
عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے اور اس درخواست پر بحث کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔
واضح رہے کہ 27 دسمبر سنہ 2007 کو بینظیر بھٹو لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں اور موجودہ وزیر داخلہ رحمان ملک اُس وقت بینظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائزر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینظیر قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہونے والے شیر زمان کے وکیل خرم محمود کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کی مخالفت کریں گے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور حکومت میں شامل دیگر افراد یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث افراد کو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل انہوں نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دی تھی کہ اُنہیں بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں فورنسک رپورٹ کی کاپی دی جائے لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
اس کے علاوہ اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم جب پاکستان آئی تھی تو تب بھی ملزمان کے وکلاء کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ جب تک یہ غیر ملکی ٹیم اپنی تحقیقات مکمل نہیں کرلیتی اُس وقت تک عدالتی کارروائی روک دی جائے تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے اس واقعہ میں وزارت داخلہ نے قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود کو بینظیر قتل کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا تھا تاہم انہوں نے بینظیر قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے اس مقدمے میں اُن کو اشتہاری قرار دے دیا تھا۔
اقوام متحدہ کی ایک ٹیم بھی بینظیر بھٹو قتل کی تحقیقات کر رہی ہے اور وہ 6 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے اس کی رپورٹ پاکستانی حکومت کو پیش کرے گی۔




















