بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق

بیت اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ محسود
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈورن حملے میں زخمی اپنے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

بی بی سی ارود سروس سے کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے یہ اعلان نئے سربراہ حکیم اللہ محسود نے منگل کی شام کو کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود پانچ اگست کے ڈرون حملے میں زخمی ہوئے تھے اور بےہوش تھے لیکن دو روز قبل وہ انتقال کرگئے۔

اس موقع پر ایک اور طالبان کمانڈر ولی الرحمان نے بھی بی بی سی سے بات کی اور ان اطلاعات کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا کہ حکیم اللہ کی قیادت پر ان کے اختلافات ہیں۔ ’ہم امیر محترم کی شہادت کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر واضح کرتے ہیں کہ اس سے ان کے حوصلے پست نہیں بلند ہونگے۔ امیر صاحب کے دور میں جو جہاد ہو رہا تھا ابھی اسے مزید مضبوط کریں گے۔‘

طالبان کے نئے سربراہ حکیم اللہ محسود
،تصویر کا کیپشنطالبان کے نئے سربراہ حکیم اللہ محسود

اس موقع پر حکیم اللہ محسود نے ولی الرحمان یا کسی اور کمانڈر سے اختلافات یا پیسوں پر لڑائی کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بیک وقت دونوں رہنماؤں کا بی بی سی سے بات کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔‘ انہوں نے میڈیا میں خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ حکومت یہ جنگ اب میڈیا پر لڑ رہی ہے۔

ولی الرحمان کا کہنا تھا کہ انہیں شوریٰ نے جنوبی وزیرستان میں اب طالبان کا امیر مقرر کیا ہے جبکہ حکیم اللہ مرکزی امیر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے درمیان گزشتہ دنوں اختلاف نہیں بلکہ مزید قربت پیدا ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق تعطل کا شکار رہی۔ امریکی اور پاکستانی حکام کہتے رہے کہ بیت ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس خبر کی سو فیصد تصدیق سے کتراتے رہے۔ دوسری جانب طالبان کے رہنما صحافیوں سے بات کرکے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی تسلسل سے تردید کرتے رہے۔ تاہم اب انہیں رہنماؤں میں سے دو کی طرف سے بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق سے یہ قضیہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔