’کمیشن کو پوچھ گچھ کا مکمل اختیار‘

لطیف کھوسہ
،تصویر کا کیپشن’اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن بی بی قتل کیس کے حوالے سے کسی بھی سرکاری دستاویز کا جائزہ لے سکتا ہے‘ لطیف کھوسہ
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اٹارنی جنرل سرادر لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستان آنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کسی بھی سرکاری اہلکار یا حکومت میں شامل کسی شخصیت سے پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔

منگل کے روز اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے کہ وہ اس مقدمے کے حوالے سے کسی بھی سرکاری دستاویز کا جائزہ لے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن ان دنوں پاکستان میں ہے جہاں پر وہ بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کے علاوہ جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا اس کے علاوہ راولپنڈی جنرل ہسپتال کے اُن ڈاکٹروں سے بھی پوچھ گچھ کی جنہوں نے بینظیر بھٹو کو اس وقت طبی امداد دی تھی جب اُنہیں لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خودکش حملےمیں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال لایا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ تحقیقاتی کمیشن وزیر داخلہ رحمان ملک سے بھی ملاقات کرے گا اور اُن سے 27 دسمبر سنہ 2007 کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والے خوکش حملے کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ کمیشن اُن افراد سے بھی ملاقاتیں کرے گا جو حادثے کے وقت اُس گاڑی میں سوار تھیں جس میں بینظیر بھٹو کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُس وقت گاڑی میں ناہید خان، شیریں رحمان اور امین فہیم موجود تھے۔

واضح رہے کہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا اُس وقت رحمان ملک بینظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائزر تھے اور اُس روز کیے جانے والے سکیورٹی کے انتظامات پر وہ متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے تھے۔

اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے فہرستیں تیار کرلی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی جج کو سُنے بغیر اُس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی۔

سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سردار لطیف کھوسہ نے کوئی واضح جواب تو نہیں دیا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔

قومی مصالحتی آرڈنینس (این آر او) کے بارے میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھاکہ جب قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ ختم ہوجائےگا تو پھر این آر او کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو ختم کرنے میں تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

اُدھر سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین سے اُن افرد کی فہرست طلب کرلی ہے جن کے خلاف ابھی تک ریفرنس دائر نہیں کیے گئے۔