مقدمہ چلانا پاکستان کے اختیار میں

بے نظیر بھٹو قتل کا تحقیقاتی کمیشن
،تصویر کا کیپشنحکومتِ پاکستان کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کو تفصیلی دستاویزات دی گئی ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے خلاف مقدمہ چلانا پاکستان کے اختیار میں ہے۔

سکیرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمانمشل مونتاس نے جمعہ کے روز نیویارک میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا فیصلہ انصاف کے مفاد میں کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ سابق وزیر عظم کے قتل کے حقائق و حالات معلوم کرے گي-

<span><span xml:lang="ar-sa"><link type="page"><caption> تحقیقاتی کمیشن کا دورۂ لیاقت باغ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090717_bb_comission_pindi_zs.shtml" platform="highweb"/></link> </span></span>

<link type="page"><caption> کمیشن کے ارکان کا تعارف</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090716_comission_detail_rr.shtml" platform="highweb"/></link>

مشل مونتاس نے اقوام متحدہ کے کمشن کے محدود دائرہ کار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ داران تلاش کرنا اور ان پر مقدمہ چلانا حکومت پاکستان کے دائرہ اختیار میں ہے جبکہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کا دائرہ حقائق و حالات معلو م کرنے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کی ترجمان سے انکوائری کمشن کی تشکیل کو پیسے کا ضیاع مانے سے انکار کیا۔

تاہم اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یو این کی تحقیقاتی کمیشن کی نوعیت فوجداری نہیں بلکہ بینظیر بھٹو کے قتل کے حقائق و حالات معلوم کرنے ہیں نہ کہ قاتلوں کو تلاش کرکے ان پر مقدمہ چلانا-