ممبئی حملہ: ضمانت کی درخواست مسترد

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بدھ کو ممبئی حملوں کی سازش میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم جمیل احمد کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
ملزم کو وفاقی تحقیاتی ادارے کی ٹیم نے انٹرپول کے دریعے سعودی عرب سے گرفتار کیا تھا اور اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ایک اور ملزم شاہد جمیل ریاض کے اکاوئنٹ میں 15 لاکھ روپے بھیجے تھے سانحہ ممبئی میں ملوث ملزمان کو 15 لاکھ روپے دیے تھے۔
درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ملزم کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ اُن کا مؤکل ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمیل احمد سعودی عرب میں اپنا کاروبار کرتا تھا اور اُس کا شدت پسند تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ اُن کے موکل کی ضمانت منظور کی جائے۔
استعاثہ کے وکیل چوہدری ذوالفقار نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے پندرہ لاکھ روپے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ایک اور ملزم شاہد جمیل ریاض کے اکاوئنٹ میں بھیجی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی پولیس کو ممبئی حملوں کی تحقیقات کے دوران وہاں سے ایک سم بھی ملی تھی جو ملزم جمیل احمد کے نام پر ہے اور یہ سم سعودی عرب سے جاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا دوران تفتیش ملزم نے سانحہ ممبئی سازش کی تیاری کے حوالے سے مزید انکشافات کیے ہیں۔
عدالت کے جج باقر علی رانا نے استغاثہ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم جمیل احمد کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں ایف ائی اے نے سات افراد کو گرفتار کیا ہے اُن میں حماد امین صادق، ذکی الرحمن لکھوی، عبدالواجد، مظہر اقبال، شاہد جمیل ریاض، محمد یونس اور جمیل احمد شامل ہیں۔
اس مقدمے میں عدالت نے تیرہ افراد کو اشتہاری قرار دیا ہے۔ اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ اگر اشتہاری قرار دیئے جانے والے افراد گرفتار نہیں ہوتے تو اُن کے خلاف کارروائی اُس وقت شروع کی جائے گی جب وہ گرفتار ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے ایک درخواست عدالت میں دائر کی جائے گی جس میں استدعا کی جائے گی کہ مقدمے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کی سماعی ان کیمرہ کی جائے۔




















