’کشمیر تقسیم کی راہ ہموار‘

امان اللہ خان
،تصویر کا کیپشنکشمیر کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے: امان اللہ خان
    • مصنف, اعجاز مہر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گلگت اور بلتستان کو علیحدہ انتظامی حیثیت دینے پر کئی کشمیری رہنماؤں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان پر کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جمعہ کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک بریفنگ دی گئی، جس میں بعض کشمیری رہنماؤں نے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

سرکاری طور پر دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں تو حکومت نے کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں گلگت اور بلتستان کے متعلق حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ہے۔

لیکن بریفنگ میں شریک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے اعلیٰ رہنما امان اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت اور بلتستان کےلیے گورنر اور وزیراعلیٰ کا تقرر اس علاقے کو صوبہ بنانے کے برابر ہے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نے ایسا کرکے کشمیر کی تقسیم کی بنیاد رکھی ہے اور اس سے کشمیر کے نصب العین کو نقصان پہنچے گا۔۔ کیونکہ اب بھارت کی طرح پاکستان نے بھی کشمیر کے علاقے کو اپنا علاقہ قرار دے دیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ کی بریفنگ میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ کسی جماعت نے گلگت اور بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کی حمایت نہیں کی۔

جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم بھی بریفنگ میں شریک رہے اور اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور بعض رہنماؤں نے گلگت اور بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینے کے حکومتی اقدامات کو سراہا لیکن انہوں نے بھی گورنر اور وزیراعلیٰ کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا۔

سردار خالد ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ حکومت نےگلگت اور بلتستان کو کشمیر سے علیحدہ کرکے انیس سو انچاس کو کراچی میں ہونے والے معاہدے، آئین پاکستان کی شق دو سو ستاون اور اقوام متحدہ کی قرارداداوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ گلگت اور بلتستان کی عوام کو حقوق دیے جائیں لیکن کشمیر کی قیمت پر نہیں۔‘

جب ان سے پوچھا کہ گلگت اور بلتستان کے لوگوں کی زبان، ثقافت، رہن سہن کشمیریوں سے مختلف ہے اور وہ انہیں کیسے کشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ سب ٹھیک ہے لیکن حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے درمیان انیس سو انچاس میں جو معاہدہ ہوا، اس کے تحت گلگت اور بلتستان کشمیر کا حصہ ہے۔

سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ بڑی بیرونی قوتوں نے کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ کرلیا ہے اور کنٹرول لائن کو سرحد تسلیم کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور گلگت بلتستان کو کشمیر سے علیحدہ کرنا اس کا آغاز ہے۔‘