قوم پرست رہنما حیدرآباد سے ’لاپتہ‘

فائل فوٹو، آکاش ملاح
،تصویر کا کیپشنآکاش ملاح سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں گرفتاری کے بعد اٹھارہ ماہ تک لاپتہ رہے تھے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں جیے سندھ قومی محاذ کے نائب چیئرمین آکاش ملاح ایک کارکن سمیت مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

ان کے بھائی حاجی انور ملاح نے الزام لگایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے ان کے بھائی کو سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سےحراست میں لینے کے بعد غائب کردیا ہے۔

آکاش ملاح کی تنظیم جیے سندھ قومی محاذ یعنی جسقم نے سات نومبر کو کراچی میں آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ جسقم کے چیئرمین بشیر قریشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آکاش ملاح کو غائب کرنے والوں نے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آکاش ملاح کی بازیابی کے لیے ان کے بھائی انور ملاح نے بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک درخواست بھیجی ہے جبکہ انہوں نے حیدرآباد کی مقامی عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔ مقامی عدالت کے احکامات پر پیر کو خفیہ پولیس سی آئی ڈی اور تھانوں پر ایک مجسٹریٹ نے چھاپے مارے ہیں مگر آکاش ملاح اور ان کے ساتھی بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

حاجی انور ملاح نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکندر عرف آکاش ملاح اپنے ایک دوست کارکن نورمحمد خاصخیلی کے ہمراہ تیس اکتوبر کو نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے گھر سے قریبی محلے کی مسجد کی طرف روانہ ہوئے مگر ان دونوں کو نماز ادا کرنے سے پہلے ہی مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کرلیا۔

آکاش ملاح کے بھائی حاجی انور ملاح کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے انہیں بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار دو نجی گاڑیوں میں سوار تھے اور بھٹائی ٹاؤن تھانہ کی پولیس موبائل ان کے تحفظ کے لیے وہاں تعنیات تھی۔ ان لوگوں نے آکاش اور ان کے کارکن دوست کو زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور غائب کردیا ہے۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب سے ان کی تنظیم نے سات نومبر کو کراچی میں آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ان کی جماعت کے کارکنوں کو مختلف حربوں سے تنگ کر رہے ہیں۔

جئے سندھ قومی محاذ کے نائب چیئرمین آکاش ملاح پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں سولہ مئی دو ہزار چھ کو گرفتاری کے بعد اٹھارہ ماہ تک لاپتہ رہے تھے۔بعد میں انہیں ایک مقامی عدالت کی معرفت رہا کیا گیا تھا جبکہ جئے سندھ قومی محاذ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صفدر سرکی بھی لاپتہ ہو گئے تھے۔

آکاش ملاح کے بھائی انور ملاح کے مطابق پرویز مشرف کا دور ایک فوجی آمر کا دور تھا مگر جمہوری حکومت میں سندھی قوم پرستوں کا لاپتہ ہونا انہیں یقین دلا رہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات کا دور ان کے لیے نہیں بدلا ہے۔

تینتیس سالہ آکاش ملاح کی شادی کی تیاریاں عروج پر ہیں اور ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ بڑی عید کے بعد آکاش کی شادی طے ہوچکی تھی مگر اچانک ان کے لاپتہ ہونے سے خاندان کو دیگر مسائل نے گھیر لیا ہے۔

جئے سندھ قومی محاذ نے اپنی جماعت کے نائب چیئرمین کی بازیابی کے لیے منگل کے روز سندھ بھر میں مظاہرے کیے ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ سات نومبر کے آزادی مارچ کے بعد آکاش ملاح کی بازیابی کےلیے مزید احتجاج کریں گے۔