قید پاکستانیوں کی تفصیلات طلب

- مصنف, حفیظ چاچڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدموں کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ سے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
جسٹس جاوید اقبال، جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس سائر علی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بینچ نے پیر کو لا پتہ افراد کے حوالے سے دو مقدموں کی سماعت کی۔
پہلے مقدمے میں عدالت نے قائم مقام اٹارنی جنرل شاھ خاور کو ھدایت دی کہ وہ بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات پیش کریں اور وزارت داخلہ بھی بتائے کہ کتنے پاکستانیوں کو غیر ممالک کے حوالے کیا گیا۔ عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو بیرون ملک قید پاکستانیوں کی فہرست تئیس نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔
قائم مقام اٹارنی جنرل شاھ خاور نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ جسٹس جاوید اقبال نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکام سے کہا کہ لا پتہ افراد کا معاملہ کافی سالوں سے زیر التواء ہے اور اب کوئی بھی نہ تو غیرقانونی طور پر قید ہو گا اور نہ ہی کوئی لا پتہ ہو گا۔
قائم مقام اٹارنی نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں وزارت داخلہ کافی سنجیدہ ہے اور غیر قانونی حراست کے حوالے سے اگر کوئی افسر ملوث ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دوسرے مقدمے میں عدالت نے کراچی کے لاپتہ شہری مصطفیٰ اعظم کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ اور صوبائی سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے سماعت 18 نومبر تک ملتوی کر دی۔
جسٹس جاوید اقبال نے آخر میں کمرہ عدالت میں موجود آمنہ مسعود جنجوعہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ لاپتہ افراد کا مقدمہ آئندہ ہفتے سے زیر سماعت آ جائے۔















