154 افراد کا کچھ پتہ نہیں: حکومت

پاکستان سپریم کورٹ کو لاپتہ افراد کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران قائم مقام اٹارنی جنرل شاھ خاور نے بتایا ہے کہ 154 لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں اور صرف انتالیس افراد کے بارے میں پتہ چل سکا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس منیر شاکر اللہ خان اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل تین رکنی بینچ میں لاپتہ افراد کے بارے میں دائر درخواستوں کے موقعے قائم مقام اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اکتیس افراد کے بارے میں صوبوں کو سے تفصیلات مابگی گئی ہیں۔
انہوں نے آگاہ کیا کہ لاپتہ مسعود جنجوعہ کا تاحال کوئی پتہ نہیں ہے اور ان کی بیوی آمنہ جنجوعہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی روشنی میں تحقیقات ہورہی ہیں اور اس ضمن میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی بنائی گئی ہے۔اس موقعے پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حکومت کو ہدایت کی کہ صرف وزارت داخلہ نہیں دیگر ادارے بھی اس بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کوئی حتمی جواب دے تاکہ لاپتہ افراد کے ورثا کو مطمئین کیا جاسکے کیونکہ ان کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔’ہم کئی مشقیں کرکے تھک گئے ہیں مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا، حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کشمیر یا افغانستان جہاد پر گیا ہے تو ان کا تو کچھ نہیں جا سکتا لیکن دیگر افراد کے بارے میں انٹیلیجنس ادارے مدد فراہم کریں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں لاپتہ افراد کے کوائف جمع کرکے پیش کریں۔
بعد میں مقدمے کی مزید سماعت سات دسمبر تک ملتوی کردی۔

















