ممبئی حملے: لکھوی کی درخواست مسترد

زکی الرحمن لکھوی، فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنزکی الرحمن لکھوی کو ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے زکی الرحمن لکھوی کی طرف سے اُن پر لگائی جانے والی فرد جُرم اور ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کے عدالتی بیان کو چیلنج کرنے کے متعلق درخواستیں واپس کردی ہیں۔

جسٹس ناصر سعید شیخ اور جسٹس خواجہ امتیار پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے ڈویژن بینچ نے درخواست گُزار کے وکیل سے کہا کہ وہ اس ضمن میں ماتحت عدالتوں سے رابطہ کریں۔

زکی الرحمن لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان نے جمعرات کو دو متفرق درخواستیں عدالت میں دائر کی تھیں۔ پہلی درخواست میں کہا گیا تھا کہ اُن کے موکل پر جو فرد جُرم عائد کی گئی ہے وہ دفعات اُن پر لاگو نہیں ہوتیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ ابھی تک کوئی بھی ایسے شواہد عدالت میں پیش نہیں کرسکا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُن کا موکل (زکی الرحمن لکھوی) کسی طرح بھی ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔

دوسری درخواست میں ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے ملزم اجمل قصاب کے عدالتی بیان کو چیلنج کیا گیا تھا جو انہوں نے بھارت کی عدالت میں دیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے یہ دائرہ اختیار میں نہیں ہے کہ وہ اجمل قصاب کے بیان کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنائے۔

خواجہ سلطان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے ابھی تک اجمل قصاب کے بیان کی تصدیق شدہ نقل پاکستان کو فراہم نہیں کی۔عدالت نے ملزم زکی الرحمن لکھوی کے وکیل سے کہا کہ انہوں نے جو بھی معروضات پیش کرنی ہیں وہ ماتحت عدالت میں کریں جس کے بعد ملزم کے وکیل نے یہ دونوں درخواستیں واپس لے لیں۔

واضح رہے کہ ممبئی حملوں کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے زکی الرحمن لکھوی کو منصوبہ ساز قرار دیا تھا تاہم بعدازاں انہوں نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔

ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سب سے پہلے زکی الرحمن لکھوی کو ہی گرفتار کیا تھا۔ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایک اور ملزم جمیل احمد کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ اجمل قصاب کے بیان کی اصل کاپی نہ ہونے کی بنا پر یہ بیان قانونِ شہادت پر پورا نہیں اُترتا۔

ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان پر پچیس نومبر کو فرد جُرم عائد کی گئی تھی جب کہ اس مقدمے کی سماعت پانچ دسمبر کو دوبارہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی جس میں اس مقدمے کے حوالے سے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔