’پاکستان میں طویل ترین سورج گرہن‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دنیا بھر کی طرح جمعہ کو ہونے والا طویل ترین سورج گرہن پاکستان کے کچھ علاقوں میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے مطابق یہ سورج گرہن صبح دس بج کر اڑتالیس منٹ پر شروع ہوا اور دو بج کر سولہ منٹ تک جاری رہا۔
سپارکو کے مطابق دوپہر بارہ بج کر چھتیس منٹ پر یہ سورج گرہن پاکستان کے کچھ علاقوں میں واضح طور پر دیکھا گیا ۔
سپارکو کے اہلکار خلیق الزماں نے بی بی سی کو بتایا ’اس سے قبل طویل ترین سورج گرہن سنہ انیس سو چورانوے میں ہوا تھا اور اب یہ طویل ترین سورج گرہن سنہ دو ہزار تینتالیس میں ہوگا مگر پاکستان میں یہ جزوی طور پر دیکھا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ سنہ بیس سو تینتالیس میں ہونے والا سورج گرہن ایک رنگ کی طرح ہوگا۔ ان کے مطابق مکمل سورج گرہن افریقہ، بحرالہند ، مالدیپ، چین اور ہندوستان سے دیکھا جاسکے گا۔
سپارکو کے مطابق جمعہ کو ہونے والا سورج گرہن افریقہ، مالدیپ، سری لنکا، چین اور انڈیا میں گول رنگ کی طرح دکھائی دیا جبکہ پاکستان میں بھی یہ جزوی طور پر نظر آیا مگر کچھ علاقوں میں اس کا پورا عکس دیکھا گیا، کراچی میں یہ تینتیس فیصد تک واضح تھا۔
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولاجسٹ افسر ریاض الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سورج گرہن سندھ اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں واضح طور پر دکھائی دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک سال میں عام طور پر دو سےسات سورج گرہن ہوتے ہیں جبکہ اس سال صرف دو سورج گرہن ہیں ایک جنوری میں تھا اور اگلا جولائی میں ہوگا جو پاکستان میں نظر نہیں آئے گا لہزا رواں سال کا یہ پہلا اور آخری واضح سورج گرہن تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپارکو کے اہلکار خلیق الزماں نے بی بی سی کو بتایا کہ سورج گرہن کے دن سورج کی روشنی تیز ہوتی ہے جو ہر وقت نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا ’عام طور پر بلا وجہ سورج کی طرف نہیں دیکھا جاتا مگر سورج گرہن والے دن لوگوں کا تجسس بڑہ جاتا ہے اور وہ اسے دیکھتے ہیں۔ سورج کی تیز روشنی آنکھ کی پتلی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس سے دائمی اندھا پن بھی ہوسکتا ہے۔‘






















