علاقائی استحکام ہی امریکی مفاد میں ہے

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکہ نے افغانستان اور پاکستان سے متعلق اپنی نئی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے قومی مفاد میں یہ ہے کہ دونوں ممالک میں استحکام پیدا کیا جائے اور اس سلسلے میں امریکہ کی جانب سے دونوں حکومتوں کی ان کی شدت پسندی کے خلاف میں ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
جمعرات کی شام نئی امریکی پالیسی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی دستاویز میں وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں امریکہ کی دفاعی کارروائیوں کے علاوہ پندرہ سو سولین اہلکار بھی دونوں ممالک کے اہلکاروں کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں اور اور خطے میں عسکری کارروائی کے خاتمے کے بعد بھی امریکہ کی مدد جاری رہے گی۔
امریکہ کی جانب سے اس حکمت عملی کی تفصیلات ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب پاکستان کی فوج نے امریکہ کے دباؤ کے باوجود مزید قبائیلی علاقوں میں کم از کم ایک برس تک فوجی کارروائی شروع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج انتہائی مصروف رہی ہے اور وہ فی الحال کوئی نیا محاذ کھولنا نہیں چاہتی۔
اس کے برعکس امریکہ کا پاکستان پر مسلسل دباؤ رہا ہے کہ وہ سوات اور جنوبی وزیرستان کے بعد اب شمالی وزیرستان میں بھی کارروائی شروع کرے جہاں سے امریکہ کے مطابق طالبان اور القاعدہ افغانستان کے اندر شدت پسند حملے منظم کر رہے ہیں۔
نئی حکمت عملی کی دستاویز کے ابتدائیے میں ہیلری کلنٹن کے بقول امریکہ کا اب بھی اہم ترین مقصد القاعدہ کو منتشر اور تباہ کرنا ہے اور اس سلسلے میں سفارتکاری اور ترقیاتی کام انتہائی ضروری ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق افغانستان اور پاکستان شدت پسندی کے انتہائی سنگین مسائل کا شکار ہیں اور امریکہ دونوں ممالک کی حکومتوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ ان مسائل پر قابو پاسکیں۔
ان کے مطابق گو امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود القاعدہ کو کافی حد تک منتشر کیا ہے لیکن اس کی قیادت اب بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے منصوبے بنا رہی ہے۔
امریکہ کی نئی حکمت عملی میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ ان ممالک میں قومی تعمیر نو کے عمل میں مصروف ہونے کے بجائے ایسے حقیقت پسندانہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرےگا جن کا براہ راست تعلق امریکہ کی قومی سلامتی سے ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ حکمت عملی پاکستان اور افغانستان کی قریبی مشاورت کے ساتھ مرتب کی گئی ہے۔
پالیسی دستاویز میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان رہا ہے لیکن حالیہ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد اور ملک میں جاری فوجی کارروائی کو بڑے پیمانے پر ملنے والی عوامی حمایت سے، دونوں ممالک کو یہ موقع حاصل ہوا ہے کہ وہ اعتماد کو بحال کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیس صفحات پر مشتمل اس پالسیسی دستاویز میں افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اہم اقدامات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جن میں دونوں ممالک کی توانائی اور پانی کے شعبوں میں مدد، زراعت میں اضافہ، منشیات کی روک تھام، مقامی اداروں کی تربیت اور مضبوطی، شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں ان کی صلاحیت بڑھانا اور طویل المیعاد شراکت داری کے اقدامات شامل ہیں۔






















