مشرق وسطیٰ:امن کوشش کا نیا دور

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں پر غیر مشروط بات چیت کرنے کے لیے زور دیا ہے۔
کلنٹن کی طرف سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے یہ اپیل اس وقت کی جب مشرق وسطیٰ میں تیز سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسرائیل وزیر اعظم نے مصر میں مذاکرات کیے ہیں اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شام کے دورے پر ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر فلسطینی ریاست کی سرحد کے تعین کے معاملات طے پا جائیں تو مقبوضے علاقوں میں اسرائیل بستیوں کا تنازعہ بھی حل ہو جائے گا۔
کلنٹن نے اس بیان سے پہلے اردن کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی تھی۔ وہ اس سے پہلے واشنگٹن میں مصر کے وزیر خارجہ احمد ابو الغیث سے بھی ملی تھیں۔
ان ملاقاتوں کے بعد انہوں نے ممکنہ امن معاہدے کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے تصورات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل کے غزہ اور غرب اردن پر قبضے کے وقت موجود سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔
فلسطینیوں کے لیے مسئلے کے حل کی طرف یہ اہم نقطۂ آغاز ہے۔ کلنٹن نے کہا کہ اسرائیل کو ایک محفوظ یہودی ریاست ملنی چاہیے جو سڑسٹھ کے بعد ہونی والی پیشرفت کی عکاس بھی ہو۔ دوسرے لفظوں میں مقبوضہ علاقوں میں بننے والی کچھ یہودی بستیاں قائم رہیں گی جو اسرائیل کا اہم مطالبہ ہے۔
اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کی میز پرآنے کے لیے ان دو معاملات پر امریکی ضمانت چاہیں گے۔ بی بی سی نامہ نگار کم گھاٹاس نے کہا کہ اس ضمن میں امریکہ کی طرف سے سرکاری سطح پر کوئی بیان نہیں دیا گیا، لیکن وزیر خارجہ کلنٹن کے اس تازہ ترین بیان سے اوباما انتظامیہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے دوسرے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔
پہلے دور میں واشنگٹن کو یقیناً کامیابی نہیں ملی تھی۔ گزشتہ سال تمام فریق اسرائیل کی طرف سے بستیوں کی تعمیر کی روک تھام کی تفصیلات میں الجھ کر رہ گئے تھے اور امریکہ اس تعطل کو ختم کرنے میں ناکام رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار امریکہ نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے فریقین پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ سیدھے سرحدوں کے تعین کے بارے میں بات کریں۔ وزیر خارجہ کلنٹن کا کہنا ہے کہ ’سرحدوں کے تنازعہ کے حل سے بستیوں کا معاملہ حل ہوگا، یروشلم پر تنازعہ حل کرنے سے بستیوں کا معاملہ حل ہوگا۔‘
عرب ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر بند ہونی چاہیے لیکن ساتھ ہی وہ تعطل ختم کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کی اہمیت کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔






















