حملے پنجاب پر نہیں کرنے چاہیں: شہباز

    • مصنف, عبادالحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

مسلم لیگ نون کے رہنما اور پنجاب کے وزیر اعلیْ شہباز شریف نے کہا کہ اگر طالبان اغیار کے تسلط کے خلاف ہیں تو انہیں پنجاب میں حملہ نہیں کرنے چاہیں۔

شہباز شریف
،تصویر کا کیپشن’دو سال گزرنے کے باوجود بھی پارلیمنٹ سترھویں ترمیم کا خاتمہ نہیں کر سکی‘

اتوار کو لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اگر طالبان کا یہ نکتہ نظر یا موقف ہے کہ وہ اغیار کے پاکستان پر تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں تو پھر انہیں پنجاب میں ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

<link type="page"><caption> لاہور پر حملے: عمر کنڈی کی ہلاکت کا انتقام</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/03/100314_lahore_respons_sen.shtml" platform="highweb"/></link>

ان کے بقول کہ ایک آمر نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اغیار کے اشاروں پر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا اور اغیار کے سامنے سرجھکا دیا جب کہ مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت نے اغیار کی ڈکٹیشن کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ جنرل پرویز مشرف کے سامنے ڈٹ کرکے کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں انتہا و عسکریت پسندی نے آمر جنرل پرویز مشرف کے غلط اقدامات کی وجہ سے جنم لیا جس کے نتیجے میں آج پورا پاکستان اس میں جھلس رہا ہے۔

شبہازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سترہوین ترمیم کے خاتمے سے پہلے صدر آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کرنا چاہیے۔ ان کہنا ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجود بھی پارلیمنٹ سترھویں ترمیم کا خاتمہ نہیں کر سکی اور اس حوالے سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔

شہباز شریف نے بتایا کہ مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف نے بھی صدر زرداری کو یہ مشورہ دیا ہے کہ جب تک سترھویں ترمیم کا خاتمہ نہ ہو جائے تو وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی زحمت نہ کریں۔

تاہم وزیر اعلیْ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں یہ نہیں بتایا کہ نواز شریف نے آصف زرداری کو یہ مشورہ کب اور کیسے دیا۔

وزیر اعلیْ پنجاب کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ پارلیمنٹ مشرف دور کی ترامیم کو ابھی تک ختم نہیں کر سکی لیکن لیکن اس باوجود بھی پارلیمنٹ کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے کیونکہ اسی پارلیمنٹ نے این آر او جیسے قانون کو تسلیم نہیں کیا جو بقول ان کے کرپشن پر مٹی ڈالنے کا قانون تھا۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اچھے اور برے تعلقات رہے ہیں اور اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کے پیش نظر اپنے تعلقات بنائے یا بگاڑے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے کیری لوگر بل پر بھی جاندار موقف اختیار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری‘ قومی سلامتی اور بقا کی قیمت پر کیری لوگر بل کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔