خاکوں کا تنازع، غیرملکیوں کے خلاف مقدمہ

پنجاب پولیس نے فیس بک کے غیرملکی مالکان اور اس پر پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے شائع کرنے والی امریکی خاتون کے خلاف توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
یہ بات لاہور ہائی کورٹ میں فیس بک کیس کی سماعت کےدوران میں پاکستان کےڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتائی۔
انہوں نے لاہور کے تھانہ سول لائنزکا رجسٹر پیش کیا اور کہا کہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کرنے پر توہین رسالت کی فعہ دوسوپچانوے سی کے تحت مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔عدالت میں تھانے کے سٹیشن ہاؤس افسر بھی موجود تھے۔
درخواست دہندہ محمد اظہر صدیق نے لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ اس مقدمہ میں فیس بک کے تینوں مالکان مارک ایلیٹ،ڈیوسٹن ماسکوف اور زیخربرگ اور فیس بک پر پیغمبر اسلام کے خاکے رکھنے والی خاتون امریکی شہری اینڈی کو نامزد کیا گیا ہے۔
پاکستان میں توہین رسالت کے جرم کی سزاعمر قید یا موت ہے۔
محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ یعنی ایف آئی آر سیل کی جاچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ انتظارکریں گے کہ پولیس ان ملزموں کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کو تحریری طور پر ہدایت کردی گئی ہے کہ فیس بک کے متنازعہ کارٹونوں پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں قرارداد پیش کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ یہ معاملہ ملکی مفاد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے حکومت کو ہدایت کی کہ ویب سائٹس کی نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے تاکہ اس قسم کے کسی اقدام کا اعادہ نہ ہوسکے۔
وفاقی وزارت مواصلات کے ڈائریکٹر علی محمد نے کہا کہ ایک ایسی پالیسی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت انٹرنیٹ پر توہین رسالت اور دیگر معاملات کو کنٹرول کیا جائےگا۔
مقدمہ کی سماعت نو جولائی تک ملتوی کردی گئی ہے۔





















