فیس بک کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟

فیس بک کی پرائیویسی پالیسی پر تنازعے نے ایسے اداروں کو پھر سے پُر جوش کر دیا ہے جو اس سوشل نیٹ ورک کا متبادل بن کر مقبولیت کے حصے دار بننا چاہتے ہیں۔
ان سوشل نیٹ ورکس میں سرمایہ لگانے والوں اور انہیں استعمال کرنے والوں کا رخ اب ایسی نئی ویب ساٹس کی طرف ہو رہا ہے جو یہ دعوے کر رہی ہیں کہ وہ اپنے ممبرز کو ان کی ذاتی مواد پر مکمل اختیار دیں گی۔
فیس بک کے ان حریفوں میں بالکل آغاز کرنے والے بھی ہیں اور ایسے مستحکم ادارے بھی جو اوپن سوشل نیٹ ورک کے ایک ماحول کو نئی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گیارہ ہزار لوگوں کی طرف سے اکتیسں مئی کو فیس بک چھوڑنے کے عزم ظاہر کرنے کے بعد فیس بک کو کچھ پریشانی ضرور لاحق ہو گی۔
سوشل ٹیکنالوجی کنسلٹینسی، ہیڈ شفٹ کے لی برائنٹ کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے سوشل پلیٹ فارم ایریا میں کسی اور نے اب تک ایسی کامیابی حاصل نہیں کی جیسی فیس بک کو حاصل ہے کیونکہ فیس بک تو گویا ایک مکمل آپریٹنگ سسٹم ہے‘۔
بلا شبہ فیس بک کے کئی حریف ایسے بھی ہیں جو اب خاصے جانے پہچانے ہیں۔
مائیکرو بلاگنگ یعنی مختصر بلاگ کی سروس ٹوٹّر بھی اس ویب سائٹ کے تاج کو چرانے کا حوصلہ دکھا سکتی ہے۔ ٹوٹّر کو گزشتہ سال ہی دنیا کے سو بڑی ویب سائٹس میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور ایک ویب انفارمیشن کمپنی، ایلیکسیا کے مطابق اب ٹوٹّر سرِ فہرست دس میں شامل ہونے کے آس پاس ہے۔
لیکن سوشل نیٹ ورک ہونے کے برخلاف ٹوٹّر بنیادی طور پر مائیکرو بلاگنگ کی سائٹ ہے۔ جہاں باہمی دوستی رکھنے والے ایک دوسرے کے روزمرہ کے معمولات اور سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی، بیبو، فرینڈسٹر اور مائی سپیس جیسی دوسری معروف سائٹس جنہیں گزشتہ چوبیس ماہ کے دوران مقبولیت میں مسلسل کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب ان کا شمار ایلیکسیا کے مطابق بیس سرِ فہرست ویب سائیٹس میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔
فیس بک کے وہ حریف جنہوں نے ابھی ابتدا ہی کی ہے، زیادہ توجہ پرائیویسی کے معاملے ہی کو دے رہے ہیں۔
نیو یارک یونیورسٹی کے چار طالب علموں نے جو ’پرائیویسی سے آگاہ، مواد پر ذاتی کنٹرول اور سب کچھ کرنے کا موقع استعمال کرنے والوں کو دینے والا سوشل نیٹ ورک‘ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے، مئی کے اوائل میں ’ڈائسپورا‘ بنایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ڈائیسپورا کے بارے میں بہت سے لوگوں کی توقع یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز کا ماڈل ہو گا جو معیار پر مبنی عام استعمال ایک ذریعہ فراہم کرے گی‘۔
اس کے امکانات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کک سٹاٹر ویب سائٹ پر ڈائسپورا ٹیم نے سرمایے حاصل کرنے کے لیے منصوبے کی تشہیر کی تو انہیں ایک لاکھ پچھہتر ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے مل گئے جب کہ ٹیم نے صرف دس ہزار ڈالر درکار ہونے کا اعلان کیا تھا۔
کک سٹاٹر ویب سائٹ ایسے تخلیقی منصوبوں کی تشہیر کرتی ہے جن کے لیے سرمایہ درکار ہو۔
اگرچہ اس ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف فیس بک نہیں ہے لیکن ’اس وقت ہماری کوشش یہ ہے کہ مرکزیت رکھنے والے سوشل نیٹ ورک کے برخلاف ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جائے جس میں استعمال کرنے والوں کو اس سارے مواد پر کنٹرول حاصل ہو جس میں وہ دوسروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں‘۔
لیکن فیس بک کا کیا بنے گا۔ اس سے پہلے اے او ایل اور کمپیو سرو نامی دو ادارے صرف اسی بنا پر اپنی ساری مقبولیت کھو چکے ہیں کہ وہ سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔

جب ان دو اداروں نے ابتدا کی تھی تو ان کی ای میل اور دوسرے سہولتوں کو صرف انہی لوگوں کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو یکساں ڈومین کی آئی ڈی رکھتے تھے۔ یعنی اے او ایل سے کسی اے او ایل والے سے رابطہ۔
تاہم بتدریج یہ ہوا کہ لوگ اس کنٹرول سے تنگ آ گئے اور اس کے ساتھ ہی دوسرے ایسے ادارے بھی آ گئے جنہوں نے زیادہ آزادی دی اور مختلف ڈومین والوں کے درمیان رابطہ ممکن بنا دیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب آپ کسی بھی اکاؤنٹ یا ڈومین سے کسی بھی اکاؤنٹ سے تکنیکی طور پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
اے او ایل اور کمپیو سرو نے بعد میں اپنے طریقوں میں تبدیلی پیدا کی اور خود کو ہر نیٹ ورک اور ڈومین کے لیے قابلِ رسائی کی وسعت دی لیکن تب تک ان کی مقبولیت ختم ہو چکی تھی۔
سوال ہے کیا فیس بک کو بھی ایسی ہی صورت کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یا وہ وقت سے پہلے خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال لے گی۔







