لاپتہ افراد کیس:آئی ایس آئی اہلکار سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ نے قوم پرست جماعت جیئے سندھ قومی محاذ کے وائس چیئرمین آکاش ملاح کی گمشدگی کے مقدمے میں آئی ایس آئی کے اہلکاروں کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور حکومت کو مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔

آکاش ملاح

سپریم کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل بینچ کے روبرو جمعرات کو آکاش ملاح کے بھائی انور ملاح کی درخواست کی سماعت ہوئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل عمر حیات سندھو نے عدالت سے مزید وقت طلب کیا اور کہا کہ ڈی آئی جی ثنااللہ عباسی کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کی جارہی ہیں، مگر عدالت نے مزید وقت دینے سے انکار کر دیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ڈی آئی جی ثنا اللہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں جن آئی ایس آئی کے اہلکاروں شاہجہان بلوچ اور معین میمن کے نام دیئے ہیں انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، جس کے بعد سماعت پچیس جون تک ملتوی کردی گئی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جیئے سندھ قومی محاذ کے آکاش ملاح اپنے ساتھی نور محمد خاصخیلی کے ہمراہ آٹھ ماہ قبل حیدرآباد کے علاقے بھٹائی ٹاؤن سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے بھائی انور ملاح نے اس بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو درخواست بھیجی تھی جسے آئینی درخواست میں تبدیل کیا گیا۔

اس سے قبل پولیس نے حلف نامہ دیا تھا کہ انہیں آکاش ملاح کی گرفتاری کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، جس کے بعد عدالت نے ڈی آئی جی پولیس ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ آکاش ملاح پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تحویل میں ہیں اور انہیں ڈی ایس پی نے تحقیقات کے دوران بتایا تھا کہ آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے شاہجہان بلوچ اور معین میمن نے آکاش کو تحویل میں لیا تھا۔

اس سے قبل دو ہزار چھ میں بھی آکاش ملاح لاپتہ ہوگئے تھے اور اٹھارہ ماہ کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے ان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے آج جمعرات کو پہلی مرتبہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں کو نام لیکر طلب کیا ہے۔