’انھیں مال نہیں اپنے پیارے چاہیئیں‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنلاپتہ افراد کے کیس کا فیصلہ دو ہفتوں میں کرنا ہے پھرذمہ دار افراد کے خلاف کارروئی کا حکم دیں گے: جسٹس جاوید اقبال
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ بلوچوں کو نوکریوں اور مالی مدد کی نہیں اپنے پیاروں سے ملنے کی خواہش ہے۔

جمعرات کو یہ ریماکس جسٹس جاوید اقبال نے لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت نے تین رکنی بینچ کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے متعلق ایک رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے یہ کہہ کر رپورٹ کو مسترد کر دیا کہ یہ صرف ایک کاغذی کارروائی ہے اور اس میں لاپتہ افراد کے حوالے سے عملی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

بیینچ کے رکن جسٹس سائر علی نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کا تمام متن ایک ہی ہے اور لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی ایک لفظ بھی تبدیل نہیں کیا گیا جس سے باخوبی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ آئندہ لاپتہ افراد کی رپورٹ میں کوئی بات چھپائی یا غلط بیانی کی گئی تو اس کے ذمہ دار سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع ہوں گے۔انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ عدالت بے اختیار ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ’ قلم کی جنبش سے معاملات کو انتہا تک لے جا سکتے ہیں۔‘

سماعت کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان نے انِ کیمرہ بریفنگ کی درخواست دی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ بلوچوں کو نوکریوں اور مالی مدد کی نہیں اپنے پیاروں سے ملنے کی خواہش ہے۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے پر غور کر رہی ہے۔ اس پر جسٹس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک اکتیس کمیشن بنائے جا چکے ہیں اور ان میں سے صرف حمود الرحمان کمیشن ہی ایسا ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے اور باقی کوئی ایسا کمیشن نہیں ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلا ہو۔

انھوں نے مزید کہا ’ہم بھی جج ہیں اور ہم لاپتہ افراد کے لواحقین کے آنسو کب تک برداشت کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اگر کوئی جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز ہے تو اس میں تمام صوبوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ ایک اتفاقِ رائے کے ساتھ کمیشن تشکیل دیا جا سکے۔

فوجی افسر عتیق الرحمان کی گمشیدگی کے حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن امتیاز طاہر نے عدالت میں کہا کہ پولیس ایک حد تک کوشش کرتی ہے اور اس کے بعد بے بس ہو جاتی ہے۔

جسٹس سائر علی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایسے لوگ جو با اختیار ہیں ان سے کوئی رابط کیا گیا تو اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اس ضِمن میں وزیراعظم سے بات کریں گے۔

سماعت کے دوران انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا کہ عدالت کوئی ٹھوس اقدامات کرے اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے پروڈکشن آڈر جاری کرے۔ اس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق داخواستوں کا فیصلہ دو ہفتوں میں کرنا ہے اور پھر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروئی کا حکم دیں گے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے آغازِ حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں لاپتہ افراد کی بازیابی بھی شامل تھی۔