’امریکہ نظام کو بہتر بنائے‘

پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ خفیہ دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے نظام کو بہتر کرے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب وکی لیکس ویبسائٹ کی طرف سے امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات جاری کرنے کا امکان ہے۔
ِوکی لیکس ویب سائٹ کی جانب سے عنقریب، امریکی سفارتی دستاویزات منظرِ عام پر لائے جانے کے امکان پر، پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نے اس معاملے پر چند روز پہلے انھیں مطلع کیا تھا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ انھیں ( امریکہ کو) اپنے نظام میں دیکھنا ہوگا کہ ان کے اس قسم کے انتظامات ہیں کہ ان کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر آرہی ہیں اور بارہا ہورہی ہیں اور انھیں اپنی نظام پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
شاہ محود قریشی نے، جو آج کل صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ سری لنکا کے دورے پر ہیں، کہا کہ اسلام آباد میں مقیم امریکی سفیر نے انھیں چند دن پہلے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کی دستاویزات منظر پر لائی جاسکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب حقائق سامنے آئیں گے تب ہی وہ اس پر کوئی تبصرہ کرسکیں گے۔
خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات سامنے آنے کےامکان کے پیش نظر امریکہ نے اپنے کئی اتحادی ممالک سے رابطے کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ وِکی لیکس پر آنے والی دستاویزات، ان کے لیے شرمندگی کا سبب بن سکتی ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ امریکی وزیرِخارجہ ہِیلری کلنٹن ازخود بھی پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سمیت عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے صدر سری لنکا کے دورے پر ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ یا کسی اور امریکی اہلکار نےصدر آصف علی زرداری سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیاہے۔
اس سوال پر کیا ان دستاویزات کے سامنے آنے سے پاک امریکہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت ان کے علم میں کوئی بات نہیں ہے کہ ان دستاویزات میں کیا ہوگا اور وہ کیا ظاہر کریں گے۔
’جہاں تک دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہونےکا تعلق ہے تو وہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ان دستاویزات میں کیا ہے اور ان کا (امریکہ کا) سرکاری موقف کیا ہے اور عجلت میں کچھ کہنا ہے قبل از وقت ہے۔‘
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جب دستاویزات سامنے آئیں گے تو ان کا جائزہ لینے کے بعد وہ مشاورت کرکے اپنا نقطہ نظر پیش کرسکتے ہیں۔
اس سے پہلے وِکی لیکس ویب سائٹ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بارے میں بھی خفیہ امریکی فوجی دستاویزات افشاء کر چکی ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق اب جبکہ وِکی لیکس نے امریکہ کی سفارتی دستاویزات منظرِعام پر لانے کا اعلان کر رکھا ہے، تو امکانی طور پر ان میں پاکستان کے بارے میں بھی اہم دستاویزات شامل ہوں گی۔ کیونکہ افغانستان میں جنگ کے آغاز کے بعد سے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی اور فوجی رابطے عروج پر رہے۔




















