امریکی امداد: شکایات براہِ راست طلب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی ادارے یوایس ایڈ نے پاکستان میں امریکی امداد سے جاری منصوبوں میں بدعنوانی سے متعلق شکایات عوام سے براہِ راست طلب کیں ہیں۔
یو ایس ایجنسی فور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ساتھ پانچ سالہ تعاون کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ایک اینٹی فراڈ ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے۔
<link type="page"><caption> کیری لوگر امداد: نگرانی کے لیے ہاٹ لائن</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/09/100923_transparency_anti_fraud.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> یو ایس ایڈ کا نیب سے تفتیش کا مطالبہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/11/101125_nab_usaid_floods_misuse_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
یوایس ایڈ میں انسپکٹر جنرل کے دفتر کی ویب سائٹ میں درج معلومات کے مطابق، ہاٹ لائن کے قیام کا مقصد پاکستان کو کیری لوگر بل کے تحت ساڑھے سات ارب امریکی ڈالر کی امداد کے تحت جاری منصوبوں میں بدعنوانی پر نظر رکھنا ہے۔
یوایس ایڈ انسپکٹر جنرل کے ادارے نے انسدادِ بدعنوانی ہاٹ لائن پر عوام سے براہِ راست درخواست طلب کیں ہیں کہ اگر وہ یو ایس ایڈ کے فنڈ کیے گئے کسی بھی پروگرام میں بدعنوانی کا شکار ہوئے ہوں یا ایسے کسی پراجیکٹ میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا علم ہو تو وہ ویب سائٹ پر اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں۔
اِس کے علاوہ وہ اپنی شکایات ٹول فری نمبر، ای میل، فیکس یا دستی طور پر بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ عادل گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کیری لوگر بل کے ذریعے ملنے والی امداد کے تحت شروع کیے جانے والے پراجیکٹس میں اگر بدعنوانی کی کوئی شکایت ہو تو اس کے لیے یوایس ایڈ اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، پاکستانی اخبارات میں گزشتہ دو ہفتے سے اشتہاری مہم چلا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو اِس بارے میں آگاہی ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق عادل گیلانی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص اپنا نام ظاہر کرکے یا ظاہر کیے بغیر بھی شکایت درج کرا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا یوایس ایڈ کو پاکستانی اداروں پر اعتبار نہیں رہا جو عوام سے براہِ راست شکایات طلب کی جا رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انسداد بدعنوانی ہاٹ لائن پراجیکٹ صرف کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد سے شروع کیے جانے والے پراجیکٹس سے متعلق ہے، جبکہ دیگر بدعنوانی کی شکایات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اپنے طور پر دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے سلسلے میں ملنے والی شکایات کا پہلے جائزہ لیا جائے گا اور پھر ایسی شکایات جن پر مزید کارروائی کی ضرورت ہو، انہیں یوایس ایڈ کے انسپکٹر جنرل کے دفتر بھیج دیا جائے گا اور وہ چاہیں گے تو ایسی شکایت پر خود کارروائی کریں گے۔
عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ ایسی شکایات جنہیں اگر ضروری سمجھا گیا تو پاکستانی ادارے قومی احتساب بیورو کو بھی بھیجی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں فاٹا سے ایک شکایت کوئی چار ماہ پہلے قومی احتساب بیورو کو بھیجی گئی تھی۔
تاہم قومی احتساب بیورو کے ترجمان شیراز لطیف کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں کے ریکارڈ کے مطابق، اب تک انہیں یوایس ایڈ یا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے یو ایس ایڈ کے تحت جاری پراجیکٹس میں کسی بدعنوانی کی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔





















