’مقدمے کو لاہور منتقل کرنے کی درخواست‘

فائل فوٹو، زکی الرحمان لکھوی
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کی سازش میں گرفتار ساتوں ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ممبئی حملوں کی سازش میں گرفتار ہونے والے زکی الرحمنٰ لکھوی کے وکیل نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اس مقدمے کو راولپنڈی سے لاہور منتقل کرنے سے متعلق استدعا کی گئی ہے۔

بدھ کو دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سے وہاں کے اہلکاراس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں بڑے متحرک دیکھائی دیتے ہیں اس لیے اُنہیں خطرہ ہے کہ وہ اس مقدمے کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزموں کے وکلاء کو شہر سے چالیس کلو میٹر دور واقع اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں جانا پڑتا ہے اور راستہ ویران ہونے کی وجہ سے اُن کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف نے اس درخواست میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے اکیس جنوری کو جواب طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ساتوں ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں اڈیالہ جیل جاتے ہیں۔

زکی الرحمنٰ لکھوی کے وکیل خواجہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ بھارت نے ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے کے فیصلے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کو مشروط کیا ہے اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ بھارت مقدمے کے فیصلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزموں کے وکلاء کو اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں گھنٹوں اڈیالہ جیل کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب تک انسداد دہشت گردی کے جج نہ آجائیں اُس وقت تک جیل کے حکام ملزموں کے وکلاء کو اندر جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

خواجہ سلطان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس پر جیل حکام کو ہدایات جاری کیں کہ جب بھی ملزمان کے وکیل مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں آئیں تو اُنہیں جیل کے اندر بیٹھانے کے لیے الگ کمرے کا انتظام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی سازش کیس کے ملزمان کی بریت کی درخواست پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

خواجہ سلطان کا کہنا تھا کہ عدالت اس مقدمے میں بھارتی اداروں کی تحویل میں قید اجمل قصاب کے بیان کو بنیاد بنا رہی ہے جب کہ اجمل قصاب خود اپنے بیان سے منحرف ہوگئے ہیں۔زکی الرحمنٰ لکھوی کے علاوہ دیگر چھ ملزمان ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے میں گرفتار ہیں ان میں حماد امین صادق، شاہد جمیل ریاض، یونس انجم، جمیل احمد، مظہر اقبال اور عبدالواجد شامل ہیں۔اس مقدمے کی آئندہ سماعت سولہ جنوری کو اڈیالہ جیل میں ہوگی۔