ممبئی حملے: ’موکل جیل میں ہی محفوظ ہیں‘

ممبئی حملوں کے مرکزی ملزم اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے اہم رکن زکی الرحمنٰ لکھوی
،تصویر کا کیپشنممبئی حملوں کے مرکزی ملزم اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے اہم رکن زکی الرحمنٰ لکھوی

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے الزام میں پاکستان میں گرفتار ہونے والے ملزموں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل جیل میں محفوظ ہیں اور رہائی کی صورت میں اُنہیں خفیہ ایجنسیوں یا امریکہ کے حوالے کرنے کے خطرات موجود ہیں۔

اس مقدمے کے مرکزی ملزم زکی الرحمنٰ لکھوی، حماد امین صادق اور عبدالواحد کے وکیل خواجہ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مقدمے میں استغاثہ کو مکمل موقع دینا چاہتے ہیں کہ اگر اُن کے پاس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں لیکن گُزشتہ ڈیڑھ سال سے اُن کے موکلوں کے خلاف کوئی بھی ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ سرکاری وکیل ممبئی حملوں مرکزی کردار اجمل قصاب کے اس اقبالی بیان پر انحصار کر رہے ہیں جو انھوں نے بھارتی عدالت میں دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اجمل قصاب کا یہ بیان میں پاکستانی عدالتوں میں قابل سماعت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جہاں پر دہشت گردی کے چار اہم مقدمات میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کو رہائی کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے اغوا کر لیا جاتا ہے تو اس بات کے واضح امکانات ہیں کہ اُن کے موکلوں کی رہائی کے بعد انھیں یا تو ایجنسیاں اُٹھا کر لے جائیں گی یا پھر امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا جہاں پر ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے امریکی شہری رچرڈ کولمین ہیڈلی سے تفتیش جاری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خواجہ سلطان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے سات ملزموں کے وکلاء اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ استغاثہ کی جانب سے اُن کے موکلوں کے خلاف کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے لیکن اس کے باوجود اُن کی ضمانت کی درخواستیں دائر نہیں کی جائیں گی کیونکہ اُن کے بقول اُن کے موکل جیل میں زیادہ محفوظ ہیں۔

فروری سال دوہزار آٹھ میں درج کیے جانے والے اس مقدمے میں ملک کے مختلف علاقوں سے سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں زکی الرحمنٰ لکھوی کے علاوہ شاہد جمیل ریاض، مظہر اقبال، حماد امین صادق، عبدالواحد، جمیل احمد اور یونس انجم شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے نام پر موبائل سم جاری کی گئی تھی جو جائے وقوعہ سے ملی تھی اس کے علاوہ ممبئی حملہ کرنے والے افراد کو کشتیاں اور مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔

ان افراد کے خلاف گُزشتہ برس پچیس نومبر کو فرد جُرم عائد کردی گئی ہے اور اس ضمن میں چار افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔

اس مقدمے کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور بھارت کی طرف سے اس مقدمے کے حوالے سے جو بھی مزید شواہد پاکستان کو بھجوائے جارہے ہیں اُن کو ضمنی چالان کا حصہ بنا کر عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں میں گرفتار ہونے والے اجمل قصاب کو پاکستان میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے اجمل قصاب کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں جبکہ اس کے علاوہ انتیس افراد کو اشتہاری قرار دیا ہوا ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے سلسلے میں اجمل قصاب کو پاکستان کے حوالے کرنے سے متعلق دستاویزات کا ایک پلندہ یا ڈوسیئر بھارت کو بھیجا گیا تھا لیکن بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ بھارتی عدالت نے اجمل قصاب کو موت کی سزا دی ہے اس لیے اس موقع پر اُنہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے ایک درخواست عدالت میں پیش کی جس میں عدالتی کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے جو بھارت جا کر اُن چونتیس گواہوں کے بیانات قلمبند کرے گی جنہوں نے ممبئی حملوں کے مقدمے میں گواہی دی تھی۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اگر بھارت اس کمیشن کو ان گواہوں تک رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کرے تو پھر اس کمیشن کو بھارت بھیجا جاسکتا ہے۔