دیر بالا: تعلیمی اداروں کی تباہی جاری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے شمالی علاقے دیر بالا میں حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شرپسندوں نے نو تعلیمی اداروں کو نذِر آتش کر دیا ہے۔
علاقے میں سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے شرپسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق شر پسندوں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو صابر کے علاقے میں نو تعمیر شدہ گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول کو نذرِ آتش کر دیا جس کے بعد گزشتہ چودہ دن کے دوران تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان کی جانب سے چار روز قبل ایک سرکاری سکول جان پٹے میں دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کیا گیا تھا جس میں اساتذہ کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ سکول آنے سے گریز کریں ورنہ انہیں خطرناک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
اس واقعے کے بعد سے سرحدی علاقے میں تمام سکول بند ہیں جبکہ والدین کو اپنے بچوں کی مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دیر بالا کے علاقوں سونہی درّہ، شلتلو، ایلوکس اور نصرت درّہ انتہائی حساس علاقے تصور کیے جاتے ہیں۔
ان علاقوں کی آبادی چالیس ہزار سے پچاس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
مینگورہ، سوات سے مقامی صحافی انور شاہ نے بتایا کہ شاہی کوٹ سے پاکستان اور افغانستان کی سرحد تک کے علاقے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں کے مطابق سرحدی پٹی کے علاقوں میں گزشتہ چودہ روز کے دوران تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں اور تمام سکول بند پڑے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا کہ افغان شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی علاقے میں دراندازی اور یہاں تخریبی کارروائیوں سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گولہ باری سے شرپسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی فورسز کے لیے سامان لے جانے والی گاڑی کو واپسی پر صابر کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔





















