ڈرون حملوں کے خلاف درخواست دائر

،تصویر کا ذریعہv
پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے خلاف آج پشاور ہائی کورٹ میں اور قبائلی متاثرین کی جانب سے ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور اس بارے میں حکومت اور امریکہ پر تنقید تو ہر جگہ ہو رہی ہے لیکن اب اسلام آباد میں عدالتوں کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں بھی آٹھ قبائلی متاثرین کی جانب سے پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔ اس پٹیشن میں پاکستان کے محکمہ داخلہ، محکمہ خارجہ، وزارت دفاع اور وفاقی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
متاثرہ قبائلی افراد کے وکیل شہزاد اکبر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اپنے شہریوں کو حافظت فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر پائی۔ اس درخواست میں امریکہ یا سی آئی اے کے کسی عہدیدار کو شامل نہیں کیا گیا جیسا کہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں کیا گیا ہے۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ آج جو پٹیشن عدالت میں پیش کی گئی ہے اس میں سترہ مارچ سن دو ہزار گیارہ کے واقعے کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
شہزاد اکبر ایڈووکیٹ سے جب پوچھا کہ واقعے کو ایک سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے تو اس تاخیر کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ان کا رابطہ متاثرہ افراد کے ساتھ ہوا ہے تو انہوں نے درخواست ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرا دی۔
قبائلی متاثرہ افراد اور قبائلی رہنماؤں نے پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ ان حملوں کے خلاف ہر فورم پر جائیں گے۔
قبائلی رہنماء ملک جلال نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کیے تو وہ بھی کوئی دوسرا راستہ دیکھیں گے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی اپنا بدلہ ضرور لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی جاسوس طیارے ڈرون حملوں کا سلسلہ پاکستان میں سنہ دو ہزار چار سے جاری ہے لیکن دو ہزار آٹھ کے بعد سے اس میں شدت آئی ہے اور سنہ دو ہزار دس اور سن دو ہزارگیارہ میں سب سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں اب تک کم از کم اٹھارہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔





















