محمد زبیر: آلٹ نیوز کے شریک بانی کون ہیں اور انڈین ٹوئٹر پر کیوں ٹرینڈ کر رہے ہیں؟

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈین ٹوئٹر پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ہیش ٹیگ #IStandwithZubair صفِ اول کے ٹرینڈز میں نظر آ رہا ہے۔

یہ ہیش ٹیگ ’آلٹ نیوز‘ کے شریک بانی محمد زبیر کے بارے میں ہے۔ صارفین اس ہیش ٹیگ کے ذریعے ٹوئٹر پر تبصرے اور پوسٹس شیئر کر رہے ہیں۔

اور اب تک اس ہیش ٹیگ کے تحت ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔

آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے لوگوں کی حمایت پر اُن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہیش ٹیگ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے اور صارفین آخر کس مسئلے پر محمد زبیر کا ساتھ دینے کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق دہلی پولیس کے سائبر سیل اور رائے پور پولیس نے زبیر کے خلاف آئی ٹی اور پوکو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

یہ ایف آئی آر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن کی شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق زبیر پر ایک نابالغ لڑکی کو مبینہ طور پر دھمکیاں دینے اور تشدد کرنے کا الزام ہے۔

ایف آئی آر میں زبیر کے ٹوئٹر ہینڈل اور ٹوئٹر ہی کے دو دوسرے ہینڈلز کا ذکر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین ایکسپریس نے دہلی سائبر کرائم کے ڈی سی پی انیمیش رائے اور رائے پور ایس پی اجے یادو کا حوالہ دیتے ہوئے ایف آئی آر کی تصدیق کی ہے۔

این سی پی سی آر کی طرف سے کی گئی شکایت میں چھ اگست کو زبیر کے اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ کا ذکر ہے۔

ٹویٹ میں ایک نابالغ لڑکی کی تصویر موجود تھی جسے مبینہ طور پر زبیر نے لڑکی کے دادا کے ساتھ ہونے والی ایک آن لائن بحث کے بعد شیئر کیا تھا۔

اس ٹویٹ میں زبیر نے لکھا ’ہیلو جگدیش، کیا آپ کی پیاری پوتی آپ کی جزوقتی نوکری کے بارے میں جانتی ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر لوگوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ میں آپ کو اس پروفائل فوٹو کو تبدیل کرنے کی تجویز دیتا ہوں۔‘

اس ٹویٹ پر زبیر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں این سی پی سی آر کے چیئرپرسن پریانک کانونوگو کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ این سی پی آر نے آٹھ اگست کو اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کیا جس میں ٹوئٹر سے مزید معلومات دینے کے لیے کہا گیا تھا اور ان کے جواب سے مطمئن ہونے کے بعد پولیس کو شکایت درج کرواتے ہوئے مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس مطالبے کے نتیجے میں یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

زبیر اور آلٹ نیوز نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

جب بی بی سی نے آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ زبیر کو این سی پی سی آر کی جانب سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع تک نہیں ملا۔ این سی پی سی آر نے اُن کی بات سنے بغیر شکایت کی۔

پرتیک کے مطابق، اب اس معاملے میں وہ بھی قانونی طور پر آگے بڑھیں گے۔

آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’قانونی طریقوں کے غلط استعمال سے زبیر کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن آلٹ نیوز محمد زبیر کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

محمد زبیر کی حمایت میں ہزاروں ٹویٹس کی گئیں ہیں۔

ٹرانسپرینسی کے لیے کام کرنے والے کارکن ساکت گوکھلے نے ٹویٹ کیا:

کچھ دیر سے زبیر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یہ جھوٹے الزامات انھیں خاموش کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

صحافی دیباشی رائے چودھری نے لکھا ہے کہ محمد زبیر انڈیا کے بہترین صحافیوں میں سے ایک ہیں۔

تحصیل پونا والا کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے بھی محمد زبیر کی حمایت میں ٹویٹ کی گئی اور انھیں ثابت قدم رہنے کو کہا گیا ہے۔

ادارکارہ سویرا بھاسکر نے اور صحافی سپریا شرما نے بھی زبیر کی حمایت میں ٹویٹ کیا۔

انھوں نے لکھا ’فیک نیوز کے خلاف لڑائی میں زبیر سب سے آگے ہیں اور ان کے کام سے ایسے افراد کو تکلیف پہنچتی ہے جو انڈیا میں جمہوریت کو مسخ کرنے کے لیے غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں۔‘

سلمان نامی صارف نے لکھا ’اب کوئی بھی سچ بولنے کی جرات نہیں کرے گا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جھوٹے لوگ انھیں جعلی مقدمات میں ملوث کر کے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سویڈن کی اپسالہ یونیورسٹی میں پیس اینڈ کانفلیکٹ ریسرچ کے پروفیسر اشوک سوائن لکھتے ہیں ’ہندو توا گینگ وہی کر رہے ہیں جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں! یعنی ان کے جھوٹ کا پول کھولنے والوں کو ہراساں کرنا۔‘

دوسری جانب دلی پولیس کے مختلف ہینڈلز کو ٹیگ کرتے ہوئے جگدیش نے ٹویٹ کیا ’وہ مجھے ہراساں کر رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں کیوںکہ میں نے محمد زبیر کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔ اگر مجھے یا میرے اہلخانہ کو کچھ بھی ہوا ہو تو وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔‘

محمد زبیر کون ہیں؟

محمد زبیر آلٹ نیوز کے شریک بانی ہیں۔ زبیر اس سے قبل ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ تھے۔ انھوں نے تقریباً 13 سال تک ٹیلی کام انڈسٹری میں کام کیا ہے۔

آلٹ نیوز ویب سائٹ پر اس ادارے کے بارے میں دی گئی معلومات کے مطابق ’آزادانہ اور حقیقی صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کارپوریٹ اور سیاسی کنٹرول سے آزاد ہو۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب عوام آگے آئیں اور تعاون کریں۔‘

الٹ نیوز فروری 2017 سے کام کر رہا ہے اور یہ ویب سائٹ مکمل طور پر رضاکارانہ کوششوں سے چلائی جا رہی ہے۔